بین الاقومی مالیاتی ادارے 'آئی ایم ایف' نے سعودی معیشت میں حالیہ برسوں میں آنے والے تنوع اور معاشی ترقی کی غیر معمولی رفتار کی وجہ سے سعودی عرب کو معیشت کے میدان کا عالمی 'ہیوی ویٹ' قرار دیا ہے۔
'آئی ایم ایف' کے مطابق اس وجہ سے مملکت دوسرے ملکوں کی بڑی معیشتوں اور براہ راست سرمایہ کاری کے ابھرتے ہوئے رجحانات کے باعث اب مسابقت میں آگے نظر آرہی ہے۔ خصوصاً اپنے تیل کی پیداوار پر انحصار کم کر کے اور خواتین کی افرادی قوت کو بروئے کار لا کر سعودی عرب نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔
ان خیالات کا اظہار 'آئی ایم ایف' کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ ٹوم برجیس واسٹن اور ڈائریکٹر برائے وسطی ایشیا ڈاکٹر جہاد آزور نے 'العربیہ' کے ساتھ انٹرویو میں کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے یہ اعتراف کیا کہ سعودی عرب نے عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود اپنی معیشت کے کلی طور تیل پر انحصار کے بجائے اسے متنوع شکل دی ہے جو کہ سعودی معیشت کے لیے بہتری اور کلیدی مثبت اشاروں کا سبب بنا ہے۔
ڈاکٹر جہاد آزور نے کہا 'سعودی عرب کی معیشت غیر معمولی طور پر پیچیدہ اور جدید تر ہے۔ اس وجہ سے معاشی میدان میں مقابلے کی زیادہ اچھی صلاحیت ثابت کر سکے گی۔
سعودی عرب اس وقت علاقے کی سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس سے بھی اب آگے بڑھ رہا ہے اور اس کی معیشت عالمی سطح کی معیشتوں میں مقابلہ کرنے کی اہلیت پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا 'آئی ایم ایف' نے حال ہی میں 'اکنامک آؤٹ لک' رپورٹ شائع کی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے اپنے ویژن 2030 کے تحت معیشت کے شعبے میں غیر معمولی تبدیلیاں کی ہیں اور ان کے نتائج بڑے ٹھوس برآمد ہوئے ہیں۔
ان سعودی کوششوں کے نتیجے میں بےروزگاری اب کم ترین سطح پر آچکی ہے۔ جبکہ پچھلے 5 برسوں کے دوران خواتین مزدوروں کی تعداد میں بھی 2 گنا اضافہ ہوا ہے۔
حالیہ چند برسوں کے دوران کی گئی معاشی اصلاحات کے سبب سعودی معیشت کو بڑھاوا ملا ہے جبکہ بے روزگاری میں کمی آئی ہے۔
سعودی معیشت میں خواتین کی شرکت 5 برسوں میں 14 فیصد سے بڑھ کر 34 فیصد ہوگئی ہے۔
آزور نے کہا ' یہ کامیابیاں عملی اور قابل ذکر ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کی معیشت کووڈ 19 کی وجہ سے خرابی کا شکار ہو رہی تھی تو سعودی عرب نے اپنی معیشت کو سنبھالے رکھا اور اسے ایک متحرک معیشت کے طور پر آگے بڑھانے میں کامیاب رہا۔ '
'آئی ایم ایف' نے سعودی عرب کے حقیقی 'جی ڈی پی' کو 3 فیصد اضافے کے ساتھ ظاہر کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ 2026 میں یہ اضافہ 3.7 فیصد ہو جائے گا۔
تیل کی قیمتیں جو گروپ 20 کی معیشتوں کے مقابلے میں نسبتاً نیچے کی طرف گئیں۔ تاہم 'اوپیک پلس' کے پیداوار سے متعلق فیصلوں نے اسے سنبھالے رکھا۔
آزور نے مزید کہا 2021 اور 2022 کے دوران سعودی عرب سب سے زیادہ بڑھنے والی معیشت میں شامل تھا۔ خاص طور پر گروپ 20 میں اس کی پوزیشن آگے تھی۔ 2025 اور 2026 کے دوران تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔
اس اضافے کی وجہ 'اوپیک پلس' کا تازہ ترین معاہدہ بھی ہے۔ جس کی وجہ سے باقی تمام سیکٹرز بھی ہمیشہ آگے کی طرف جائیں گے۔
آزور نے کہا 'سعودی عرب خطے میں سب سے بڑے سرمایہ کاری پروگراموں کو ڈیل کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھی ایک بڑی مقدار سعودی عرب میں نئے ابھرتے شعبوں میں آئی ہے۔
-
جاپان سعودی عرب کے ساتھ مل کر ’سیکستھ جنریشن‘ لڑاکا طیاروں کی تیاری پر کام کرے گا: ذرائع
ایک جاپانی ذریعے نے العربیہ کو بتایا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ چھٹی نسل کے فائٹر ...
مشرق وسطی -
ہم نے خرطوم میں چھ ہسپتالوں کی بحالی کا کام شروع کیا ہے:سوڈان میں سعودی سفیر
سوڈان میں متعین سعودی عرب کے سفیر علی جعفر نے کہا ہے کہ مملکت خرطوم میں جنگ سے ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب: غیر ملکی نجی طیاروں کو مسافر سروس کے اجازت نامے ملنا شروع
2024 میں سعودی ہوائی اڈوں سے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد 128 ملین سے زیادہ ہو ...
بين الاقوامى