امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والز کو برطرف کیے جانے کے بعد، ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف، اسٹیفن ملر کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے پیر کی صبح صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں توقع ہے کہ وہ آئندہ چھ ماہ کے اندر قومی سلامتی کا نیا مشیر مقرر کر لیں گے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ہفتے کے روز دو با خبر امریکی ذرائع نے بتایا کہ صدر ٹرمپ ... مائیک والز سے اس وقت ناراض ہو گئے جب انھیں محسوس ہوا کہ وہ ایران کے معاملے میں نیتن یاہو کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں اور ایران کی جوہری تنصیبات پر فوجی حملے کے حامی بن گئے ہیں۔ یہ بات امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے بتائی۔
والز کے ان اقدامات نے وائٹ ہاؤس کے عملے میں یہ تاثر پیدا کیا کہ وہ فوجی کارروائی کے حق میں جھکاؤ رکھتے ہیں، جب کہ صدر ٹرمپ اب تک مذاکرات کو ترجیح دیتے آئے ہیں اور کئی بار اس کا علانیہ اظہار بھی کر چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں سفیر کا تقرر
ٹرمپ نے جمعرات کے روز والز کو برطرف کیے جانے کی تصدیق کی تھی، لیکن ساتھ ہی انھیں اقوامِ متحدہ میں امریکہ کا سفیر مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر کہا کہ "مائیک والز نے ہماری قوم کے مفادات کو اولین ترجیح دینے کے لیے سخت محنت کی، اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے نئے منصب میں بھی ایسا ہی کریں گے"۔
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو ... عبوری طور پر قومی سلامتی کے مشیر کی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔