نیویارک سٹی کا تباہ شدہ ہیلی کاپٹر تین ٹکڑے ہو کر دریا میں جا گرا: اطلاعات

گرنے سے قبل ہیلی کاپٹر میں کئی زوردار دھماکے ہوئے: عینی شاہدین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی ادارے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) نے بدھ کو کہا کہ ایک سیاحتی ہیلی کاپٹر جو گذشتہ ماہ نیویارک شہر کے دریائے ہڈسن میں گر کر تباہ ہو گیا تھا، وہ حادثے کے وقت تیزی سے نیچے آنے سے پہلے تین بڑے ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ اس میں سوار تمام چھے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

این ٹی ایس بی نے ایک رپورٹ میں کہا کہ نیویارک ہیلی کاپٹر ٹورز کے زیرِ انتظام چلنے والا بیل 206 ہیلی کاپٹر 10 اپریل کو ایسٹرن ٹائم کے مطابق دوپہر 2:58 پر مین ہٹن ہیلی کاپٹر پیڈ سے روانہ ہوا۔ دریائے ہڈسن کے اوپر شمال کی طرف پرواز کرنے کے 17 منٹ بعد یہ گر کر تباہ ہو گیا۔

این ٹی ایس بی کے مطابق کئی عینی شاہدین نے بتایا کہ ٹوٹنے اور نیچے آنے سے پہلے ہیلی کاپٹر سے کئی زوردار "دھماکوں" کی آوازیں آئیں۔ ایجنسی نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر اچانک تین بڑے حصوں میں تقسیم ہو گیا: مرکزی حصہ بشمول انجن، چرخی اور پروں کا مرکزی حصہ اور دم والا عقبی حصہ۔

این ٹی ایس بی نے کہا کہ ملبہ دریا میں کئی مقامات اور ہوبوکن، نیو جرسی میں ٹرانزٹ بلڈنگ کے قریب ایک چھت سے برآمد ہوا۔

این ٹی ایس بی نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کے ایئر فریم نے کُل 12,975 گھنٹے اور انجن نے کُل 23،305 گھنٹے کام کیا تھا۔ نیز کہا گیا کہ ہیلی کاپٹر کا حالیہ ترین معائنہ فروری کے آخر میں ہوا تھا اور اس کے بعد سے اس نے تقریباً 50 گھنٹے کام کیا تھا۔

حادثے میں ہلاک شدہ افراد میں سپین کا ایک خاندان بھی شامل تھا۔

مین ہٹن کے اردگرد کی فضائی حدود میں اکثر سیاحتی ہیلی کاپٹر محوِ پرواز ہوتے ہیں جو سیاحوں کو بلندی سے شہر کا نظارہ کرواتے ہیں۔ ان میں سے کم از کم دو درجن ٹور آپریٹرز ٹور ویب سائٹ Viator پر درج ہیں۔

نیویارک میں 2018 میں ہیلی کاپٹر میں سوار پانچ مسافر اس وقت ہلاک ہو گئے جب طیارہ ایسٹ ریور میں گر کر تباہ ہو گیا جبکہ پائلٹ بچ گیا تھا۔ ہیلی کاپٹر چارٹر پرواز پر تھا جس میں مسافروں کے افق کی تصاویر لینے کے لیے ایک کھلا دروازہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں