امریکہ نے جمعرات کے روز چین کی آئل ریفائنری پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے مطابق یہ ریفائنری تین ٹرمینل کو چلا رہی تھی۔ جس سے ایران کو تیل کے بدلے سینکڑوں ملین ڈالر کی رقم مل رہی تھی۔
امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے تحت اب تک پابندیوں کا تیسرا اقدام ہے۔ جس کی زد میں چین کی 'انڈی پنڈنڈنٹ ٹی پاٹ ریفائنری' آئی ہے۔ ایران کے خلاف امریکی مہم فروری میں شروع ہوئی تھی۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران تیل کی رقم سے عدم استحکام کی اپنی کوششوں کو ممکن بناتا ہے۔ امریکہ ایران کے ساتھ ساتھ اس کے تمام شراکت داروں کو بھی ان پابندیوں کی زد میں لاتا ہے۔ تاکہ ایران کی مکمل معاشی ناکہ بندی ممکن بناسکے۔
علاوہ ازیں امریکہ نے متعدد کمپنیوں ، کشتیوں اور کشتیوں کے کپتانوں کو بھی ان پابندیوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ جو ایرانی تیل کی ترسیل اور نقل و حمل میں کردار ادا کرتے ہیں اور ایران کے لیے فنڈز کا ذریعہ بنتے ہیں۔