پاکستان اور بھارت

دائمی خطرے والا علاقہ، بھارت اور پاکستان کے لیے لائن آف کنٹرول کا کیا مطلب ہے؟

دو جوہری ہمسایوں کے درمیان لائن آف کنٹرول ایسا عسکری علاقہ ہے جہاں انسانوں سے زیادہ بندوقیں آباد ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ہمالیہ کے درمیان اور ایسی بلندی پر جہاں ہوا اور گولیوں کی آواز کے سوا کوئی آواز نہیں آتی گزشتہ صدی میں متنازع علاقے کشمیر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان برف کے اوپر ایک فائر لائن کھینچی گئی تھی جسے ’’لائن آف کنٹرول ‘‘ ( LoC ) کا نام دیا گیا۔ یہ اس وقت دنیا کی خطرناک ترین غیر واضح سرحد ہے۔

دو جوہری ہمسایوں کے درمیان لائن آف کنٹرول محض ایک جغرافیائی حد فاصل نہیں بلکہ ایک ایسا عسکری علاقہ ہے جہاں انسانوں سے زیادہ بندوقیں آباد ہیں۔ یہ ایک ایسی لائن ہے جو 1947 میں دونوں ممالک کے ایک دوسرے سے آزاد ہونے کے بعد سے کبھی خاموش نہیں ہوئی۔

اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان جنگیں اکثر کسی معاہدے پر دستخط ہونے کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں بلکہ ایسی جنگ بندیوں پر ختم ہوتی ہیں جو کبھی بھی دوبارہ بھڑک سکتی ہیں۔ ایسی ہی ایک جنگ میں ہم نے گزشتہ دنوں لائن آف کنٹرول سے شروع ہو کر دونوں ملکوں کی گہرائی تک پہنچنے والی مختلف ہتھیاروں سے ہونے والی جھڑپوں کو دیکھا ہے۔

سرحد کی نوعیت

پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول تقریباً 740 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے اور یہ دونوں جانب سے غیر تسلیم شدہ لائن ہے۔ اس کے برعکس ان کے درمیان تقریباً پرسکون بین الاقوامی سرحد ہے۔ یہ لائن اقوام متحدہ نے 1949 کی پہلی پاک بھارت جنگ کے بعد کھینچی تھی اور اسے سب سے پہلے "لائن آف سیز فائر" کہا گیا تھا تاکہ دونوں نو آزاد ہمسایوں کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔

یہ معاہدہ کسی بھی فریق کے لیے رکاوٹ ثابت نہیں ہوا کیونکہ یہ عارضی تھا۔ 1972 میں دونوں ملکوں کے درمیان "شملہ معاہدہ" پر دستخط ہوئے جس نے متنازعہ سرحد کو "لائن آف کنٹرول" کا نام دیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کے قریب دیہاتوں اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں شہری رہتے ہیں لیکن یہ مسلسل زمینی سرنگوں اور سرحدی جھڑپوں کی وجہ سے خطرے میں ہی زندگی بسر کرتے ہیں۔

عسکری پھیلاؤ

لائن آف کنٹرول کو دنیا کا سب سے بڑا مستقل عسکری مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں بھارت نے پانچ لاکھ سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور پاکستان نے ڈیڑھ سے دو لاکھ کے درمیان فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔ یہ فوجی ہر وقت ہتھیاروں سے لیس مستعد کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے گرد بکتر بند گاڑیاں، ٹینک اور یہاں تک کہ طیارے بھی موجود ہیں۔ انہیں دیکھ کر ایسا گمان ہوتا ہے گویا جنگ ابھی ایک سیکنڈ بعد شروع ہونے والی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جھڑپ ایک علاقائی تباہی اور ایک مکمل جنگ کا امکان پیدا کردیتی اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بنتی ہے۔

جنگ بندیاں

پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے کئی معاہدے، جن میں سب سے نمایاں 1949 کی پہلی جنگ کے بعد کا معاہدہ اور 1972 کا شملہ معاہدہ ہیں، موجود ہونے کے باوجود فریقین نے درجنوں بار ان معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ بھارتی اور پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ طویل عرصے تک قائم رہنے والی بہترین جنگ بندی وہ تھی جو 2003 میں تحریری نہیں تھی بلکہ دونوں فوجوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بار بار کی جھڑپوں کے بعد ایک میدانی عسکری مفاہمت تھی۔

2003 میں اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان عسکری مفاہمت نے غیر تسلیم شدہ سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کی تھی یہاں تک کہ 2016 میں بتدریج خلاف ورزیاں بڑھ گئیں۔ 2017 میں جھڑپیں غیر معمولی حد تک پہنچ گئیں جہاں دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ 2017 میں جنگ بندی کی 971 خلاف ورزیاں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں 31 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے تھے۔ اس سال کے دوران تقریباً روزانہ 3 خلاف ورزیاں کی گئی تھیں۔

اس دوران 2020 میں خلاف ورزیاں اپنی انتہا کو پہنچ گئیں جب لائن آف کنٹرول غیر تحریری معاہدے کی ایک دن میں 14 خلاف ورزیوں کی اوسط کے ساتھ تقریبا 5 ہزار خلاف ورزیاں کی گئیں۔ لیکن دونوں عسکری اداروں نے جنگ میں پھسلنے اور ایک بند گلی تک پہنچنے کے خوف سے اس معاملے کو سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ پھر فروری 2021 میں انہوں نے 2003 کے معاہدے پر اپنی وابستگی کی تجدید کی تصدیق کی۔ اور ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوا تھا کہ دونوں ممالک نے "لائن آف کنٹرول اور دیگر علاقوں میں جنگ بندی سے متعلق تمام معاہدوں اور مفاہمتوں پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

بین الاقوامی ثالثی

گزشتہ دنوں لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی نے جنگ کے سائے پھر گہرے کر دیے ہیں، اس مرتبہ جھڑپیں دونوں ملکوں کے دیگر علاقوں تک پہنچ گئی تھیں۔ اسی لیے پاکستانی حکام کے مطابق 30 سے زائد ممالک میں بین الاقوامی ثالثی کی کوششیں شروع ہوئیں۔ ان ملکوں میں سعودی عرب اور امریکہ پیش پیش تھے تاکہ اس بحران کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کامیابی سے اس میں کردار ادا کیا اور دونوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ بندی پر اتفاق کرنے میں مدد کی۔

تاہم مبصرین اس بات پر زور دے رہے ہیں دونوں فریقوں کے لیے ایک ایسے جامع اور پابند معاہدے تک پہنچنا ضروری ہے جس میں ایک مشترکہ بین الاقوامی نگرانی کا طریقہ کار شامل ہو جو کم از کم بار بار کی خلاف ورزیوں کو کم کرنے اور زمین پر ایک حقیقی اور پائیدار استحکام قائم کرنے کی ضمانت دے سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں