امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بھارت اور پاکستان کے درمیان مکمل اور فوری جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کے باوجود دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ۔ "رائٹرز" کے مطابق مقامی ذرائع نے جموں میں دھماکوں کی آوازیں سننے اور جنگ بندی کے اعلان کے باوجود گولے گرتے دیکھنے کی اطلاع دی ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈرون حملوں نے شہر کو نشانہ بنایا۔
لقطات توثق اشتباكات عنيفة بين القوات الهندية والباكستانية في مواقع مختلفة من كشمير#قناة_العربية #الهند #باكستان pic.twitter.com/KMbeD05hwL
— العربية (@AlArabiya) May 10, 2025
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کے سیکرٹری وکرم میسری نے صحافیوں کو بتایا کہ بھارتی مسلح افواج نے آج ہفتہ کو جنگ بندی کے معاہدے پر پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا جواب دینا شروع کر دیا ہے۔ "فرانس پریس" کے مطابق میسری نے مزید کہا کہ مسلح افواج کو خلاف ورزیوں سے سختی سے نمٹنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
وکرم میسری نے پاکستان سے خلاف ورزی بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے آج متفقہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے برعکس کشمیر میں ایک پاکستانی اہلکار نے زور دیا کہ بھارت کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں جاری ہیں۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے عسکری کشیدگی کے کئی دنوں بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان جامع اور فوری جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کے فوراً بعد ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے ہفتہ کو پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ امریکی ثالثی کے بعد دونوں ملک جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے عقل مندی اور ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بحران ختم کرنے کا انتخاب کرنے پر بھارت اور پاکستان شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک اور بھارت نے جزوی نہیں بلکہ مکمل جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 30 ملکوں نے اس نتیجے کو حاصل کرنے والی سفارتی کوششوں میں حصہ لیا۔ بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے بھی پاکستان کے ساتھ جنگ بندی اور فوجی کارروائیوں کے حوالے سے مفاہمت تک پہنچنے کی تصدیق کی تھی۔