اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں شمالی علاقے بیت لاہیا سے لے کر جنوب میں موراج کی راہ داری تک پھیلی ہوئی سرحدی پٹی پر بھاری توپ خانے اور جنگی کشتیوں کے ذریعے شدید گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ بات العربیہ کے نمائندے نے بتائی۔
طبی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں محض دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں تقریباً 40 فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ یہ حملے غزہ کے مختلف علاقوں میں کیے گئے، جن میں دیر البلح، النصیرات کیمپ اور شہر کے وسطی علاقے "الدرج" خاص طور پر شامل ہے۔
العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ غزہ شہر کے مشرقی اور شمالی علاقے جبالیا البلد پر بھی اسرائیلی فضائی حملے ہوئے۔ اسی طرح خان یونس کے مغرب میں واقع علاقے "المواصی" میں پناہ گزینوں کی خیمہ گاہ اور ایک ایندھن کے مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسی ضمن میں نمائندے نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں، یعنی عبسان، بنی سہیلہ اور خزاعة میں شدید گولہ باری کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر زمین ہموار کرنے کی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ان علاقوں کے مکین سخت حالات میں نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں، جب کہ غزہ کی طرف جانے والے راستے بند ہونے کی وجہ سے صورت حال مزید سنگین ہوگئی ہے۔
اسی دوران اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا کہ شمالی غزہ میں جھڑپوں کے دوران اس کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔
یہ ہلاکت ایسے وقت میں پیش آئی جب اسرائیل نے غزہ پر اپنا حملہ تیز کر دیا ہے، جو کہ "مركبات جدعون" نامی فوجی کارروائی کے تحت ہفتے کے دن سے جاری ہے۔
پیر کے روز اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اس نے غزہ کے مختلف علاقوں میں 160 اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں جنگجوؤں کے ٹھکانے، ٹینک شکن راکٹ لانچرز، اسلحہ کے گودام اور فوجی بنیادی ڈھانچے شامل ہیں۔ فوج نے یہ بھی اطلاع دی کہ جنوب غزہ میں ایک سرنگ کو تباہ کیا گیا اور النصیرات کیمپ میں ایک عمارت پر فضائی حملہ کیا گیا، جسے حماس کا کمانڈ اور کنٹرول سینٹر قرار دیا گیا۔
ادھر العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکا اور حماس کے درمیان براہ راست مذاکرات جاری ہیں، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان دوحہ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اسرائیل کسی ممکنہ آخری معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔
مشاهد للحظات الأولى لقصف إسرائيلي استهدف مدرسة تؤوي نازحين في حي الدرج شرق مدينة غزة وأسفر عن مقتل 8 فلسطينيين #إسرائيل#غزة#العربية pic.twitter.com/jcT5Huv6EJ
— العربية (@AlArabiya) May 20, 2025
ذرائع نے مزید بتایا کہ اسرائیل پر امریکا کا بڑھتا ہوا دباؤ دراصل خلیجی ممالک کے غیر معمولی دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے، جنھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ رکوانے، یرغمالیوں کے معاہدے پر زور دینے اور امدادی سامان کے داخلے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا دفتر اس وقت سخت دباؤ اور بے چینی کا شکار ہے، کیوں کہ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے جنگ ختم نہ کی تو امریکا اسرائیل کی حمایت سے دست بردار ہو سکتا ہے۔