اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائیر گولان کی جانب سے اپنی ہی ریاست پر سخت تنقید اور بچوں کے قتل کو "مشغلہ" قرار دینے کے بعد، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایک اور کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس بار یہ تنقید ان کے پیش رو ایہود اولمرٹ کی طرف سے سامنے آئی، جنھوں نے کہا کہ اسرائیل جو کچھ اس وقت غزہ میں کر رہا ہے، وہ جنگی جرائم کے بہت قریب ہے۔
اولمرٹ نے برطانوی نشریاتی ادارے "بی بی سی" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہزاروں بے گناہ فلسطینی مارے جا رہے ہیں، اور بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ جنگ بے مقصد ہے، اس کے ذریعے کوئی ایسا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا جو مغویوں کی جان بچا سکے۔
انھوں نے کہا کہ "ہر زاویے سے دیکھا جائے تو یہ عمل نہایت قابلِ نفرت اور غصہ دلانے والا ہے۔"
اولمرٹ کے اس بیان کے بعد، نیتن یاہو کی کابینہ کے وزیرِ تعلیم نے ان پر سخت تنقید کی۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر کہا کہ ایہود اولمرٹ کو خود پر شرم آنی چاہیے۔
یاد رہے کہ اولمرٹ نے 2005 میں غزہ سے اسرائیلی انخلا میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، اس کے بعد وہ 2006 سے 2009 تک اسرائیل کے وزیر اعظم بھی رہے۔
پیر کے روز، اسرائیلی اپوزیشن جماعت "ڈیموکریٹس" کے سربراہ یائیر گولان نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت بچوں کو مارنے کو ایک مشغلہ سمجھتی ہے، اور اگر تل ابیب نے اپنا طرزِ عمل نہ بدلا تو وہ اقوامِ عالم میں تنہا ہو جائے گا۔
اسرائیلی ریڈیو "کان بیت" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں گولان نے کہا کہ اسرائیل ایک ایسی ریاست بنتی جا رہی ہے جو دنیا میں تنہا ہو گی، جیسے ماضی میں جنوبی افریقہ ہوا کرتی تھی۔ ان کے بقول، ایک مہذب ریاست نہ تو عام شہریوں پر جنگ مسلط کرتی ہے، نہ بچوں کو تفریحاً قتل کرتی ہے اور نہ لوگوں کو جبراً بے دخل کرنے کے اہداف طے کرتی ہے۔
گولان نے مزید کہا کہ "یہ حکومت انتقام کی آگ میں جلنے والے ایسے افراد سے بھری پڑی ہے جنھیں نہ اخلاقیات کی سمجھ ہے اور نہ ہنگامی حالات میں ملک چلانے کی صلاحیت۔"
ادھر امریکا اسرائیل پر جنگ ختم کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کیا کہ یا تو وہ جنگ ختم کرے یا امریکی حمایت سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس پر نیتن یاہو کے دفتر میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔
غزہ میں 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو اس وقت ایک غیر معمولی انسانی بحران کا سامنا ہے