شمالی غزہ کے علاقے جبالیا کے شہریوں نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ فوری طور پر ختم کرے۔ مقامی شہریوں نے کہا ہے کہ وہ عام لوگ ہیں، جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے اور ان کے بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ بے گھر ہو چکے ہیں اور ان کے پاس کوئی پناہ گاہ ہے اور نہ ہی محفوظ علاقہ بچا ہے جہاں وہ سر چھپا سکیں۔
مذاکرات بدستور تعطل کا شکار
یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں گذشتہ تقریباً بیس ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت کسی ٹھوس پیش رفت سے محروم ہے۔ اسرائیل نے مارچ کے وسط میں چھ ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد دوبارہ بھرپور فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔
ادھر حماس نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی پیشکش کو مسترد نہیں کرتی بلکہ اسے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابل قبول سمجھتی ہے۔
تاہم اس نے وٹکوف کے مؤقف کو "غیر منصفانہ اور اسرائیل کی مکمل طرفداری کا عکاس" قرار دیا۔
جوابی بیان میں حماس نے یرغمال بنائے گئے دس زندہ افراد اور اٹھارہ جاں بحق افراد کی باقیات کی واپسی کا شیڈول تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ یہ رہائی 60 دن کی جنگ بندی کے دوران چھ مرحلوں میں مکمل ہو۔
حماس نے مزید مطالبہ کیا کہ اسرائیلی فوج مکمل طور پر ان پوزیشنز تک واپس چلی جائے جہاں وہ مارچ میں گذشتہ جنگ بندی کے اختتام سے قبل موجود تھی۔
ساتھ ہی اس نے امریکہ سے جنگ کے مکمل خاتمے کی ضمانت طلب کی جو مذاکرات میں سب سے بڑا اختلافی نکتہ بن گیا ہے۔
" جواب ناقابل قبول ہے"
امریکی ایلچی وٹکوف نے حماس کے جواب کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔ ایک سوشل میڈیا بیان میں انہوں نے کہا: "حماس کو ہماری پیشکش قبول کرنی چاہیے تاکہ آئندہ ہفتے سے مذاکرات شروع کیے جا سکیں"۔
وٹکوف کی تجویز میں دس زندہ یرغمالیوں اور اٹھارہ جاں بحق افراد کی باقیات کو دو مراحل میں رہا کرنے کی بات کی گئی تھی، اس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید کچھ فلسطینیوں کی رہائی کی تجویز دی گئی تھی۔
دوسری جانب غزہ میں انسانی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے مطابق اب تک جو امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں، وہ صرف نو فیصد انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔