اسرائیل غزہ میں ’جنگی جرائم‘ کا ارتکاب کر رہا ہے: سابق اہلکار بائیڈن انتظامیہ

حکومت میں رہتے ہوئے وہ ایسا نہیں کہہ سکتے تھے: میتھیو ملر کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی محکمۂ خارجہ کے سابق ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ان کے خیال میں اسرائیل نے غزہ میں "جنگی جرائم" کا ارتکاب کیا ہے حالانکہ بائیڈن انتظامیہ کے تحت ایک سرکاری حیثیت میں پریس کانفرنسز کے دوران انہوں نے اس بات کی تردید کی تھی۔

انہوں نے برطانوی میڈیا سکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ بات بلاشبہ درست ہے کہ اسرائیل نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔"

ملر نے اصرار کیا کہ وہ امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان کے طور پر کام کرتے ہوئے ایسی رائے کا اظہار نہیں کر سکتے تھے۔

انہوں نے کہا، "جب آپ پوڈیم پر ہوں تو آپ اپنی ذاتی رائے کا اظہار نہیں کرتے بلکہ آپ امریکہ کی حکومت کے اخذکردہ نتائج کا اظہار کرتے ہیں۔"

ایک ڈچ اخبار این آر سی کی تحقیقات کے مطابق نسل کشی کے حوالے سے دنیا کے معروف تحقیق دانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا خیال ہے کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں نسل کشی ہیں تاہم ملر نے غزہ پر اسرائیل کی جنگ کو نسل کشی کہنے سے انکار کر دیا۔

ملر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل حماس کو شکست دینے کے ارادے سے کم از کم 54,000 فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے۔ اور اس جنگ کے باعث غزہ کے 20 لاکھ باشندے فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں اور گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ نے کبھی بھی اسرائیل پر جنگی جرائم کا الزام نہیں لگایا۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان کے طور پر ملر نے جنگی جرائم کے الزامات کو اکثر مسترد کیا اور کئی پریس بریفنگ کے دوران اسرائیل کے اقدامات کا دفاع کیا تھا۔

اس وقت انہوں نے اقوامِ متحدہ کے حکام اور بین الاقوامی فوجداری عدالت پر تنقید کی جنہوں نے اسرائیل پر غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگایا تھا اور انسانی حقوق کے جن اہلکاروں نے اسرائیل کے اقدامات کو نسل کشی قرار دیا تو انہیں یہود دشمن کہا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھی یہی راستہ اختیار کیا ہے اور غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کے لیے امریکی حمایت جاری رکھی ہے۔ اور ایسا بین الاقوامی مذمت اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ گرفتاری کے باوجود ہو رہا ہے۔

اس ہفتے شائع ہونے والے سکائی نیوز کے انٹرویو میں ملر نے کہا کہ ان کے خیال میں اسرائیل نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے بشمول محکمہ خارجہ میں ان کے اپنے دور کے دوران۔

ملر نے کہا، یہ ایک "کھلا سوال" ہے کہ آیا اسرائیل نے "جنگی جرائم کا دانستہ ارتکاب کرنے کی پالیسی پر عمل کیا ہے یا وہ لاپرواہی کا اس طریقے سے مظاہرہ کر رہا ہے جس سے جنگی جرائم کی معاونت اور حوصلہ افزائی ہو"۔

لیکن انہوں نے کہا، یہ "یقیناً کوئی کھلا سوال نہیں ہے" کہ اسرائیلی فوج کے انفرادی ارکان نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔

ملر نے کہا، "بالآخر تقریباً تمام بڑے تنازعات میں بشمول وہ جن پر جمہوری ممالک نے مقدمہ دائر کیا ہو، آپ فوج کے اور افواج کے انفرادی ارکان کو جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے دیکھیں گے اور کسی جمہوریت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آیا وہ ان لوگوں سے جواب طلبی کرتے ہیں لیکن اسرائیل نے ایسا نہیں کیا۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہم نے ابھی تک انہیں کافی تعداد میں فوجیوں سے جواب طلبی کرتے نہیں دیکھا اور میرے خیال میں یہ ایک کھلا سوال ہے کہ آیا وہ ایسا کریں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں