اسرائیلی فوج کا غزہ میں خصوصی آپریشن میں دو اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں بازیاب کرانے کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج اور شاباک (سکیورٹی ایجنسی) نے غزہ میں ایک خصوصی کارروائی کے دوران دو اسرائیلیوں کی لاشیں بازیاب کر لی ہیں، جو اکتوبر 2023 سے حماس کی تحویل میں تھیں۔

اپنے بیان میں نیتن یاھو نے بتایا کہ جن افراد کی لاشیں واپس لائی گئی ہیں ان کے نام "جودی وینشٹائن-حاجی" اور "گیڈی حاجی" ہیں جو نیر عوز کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دونوں افراد 7 اکتوبر 2023ء کو قتل کر دیے گئے تھے اور ان کی لاشیں بعد ازاں غزہ منتقل کر دی گئی تھیں۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ "ہماری حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک تمام قیدی، خواہ زندہ ہوں یا وفات پا چکے ہوں، وطن واپس نہیں آ جاتے"۔

جودی وینشٹائن کی عمر 70 برس تھی۔ انہیں سات اکتوبر کو پیش آنے والے واقعات کے دوران قتل ہو گئی تھیں، اور ان کی لاش تب سے غزہ میں موجود تھی۔ ان کے شوہر، 73 سالہ غادی حاجی، بھی اسی روز ہلاک ہو گئے تھے۔

غزہ میں اسرائیلی قیدی رہا (آرکائیو - ایسوسی ایٹڈ پریس)
غزہ میں اسرائیلی قیدی رہا (آرکائیو - ایسوسی ایٹڈ پریس)

اسرائیلی قیدیوں کی تعداد پر تضاد

بنجمن نیتن یاھو نے گزشتہ ماہ (مئی) کے آغاز میں کہا تھا کہ "ابھی 21 اسرائیلی قیدی زندہ ہیں"، جب کہ اسرائیل میں قیدیوں اور لاپتا افراد کے امور کے کوآرڈینیٹر گال ہیرش کے مطابق زندہ قیدیوں کی تعداد 24 ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

سرکاری اندازوں کے مطابق، سات اکتوبر 2023ء کے بعد سے قید کیے گئے اسرائیلیوں میں سے 35 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ غزہ کی محصور اور تباہ حال پٹی میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے کی جانے والی حالیہ بات چیت ناکام ہو چکی ہے، جب کہ اسرائیلی فوج نے اپنی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں اور خطے میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں