سان فرانسسکو میں 60 افراد گرفتار، گورنر کیلیفورنیا نے نیشنل گارڈ کی تعیناتی سے انکار کردیا
سان فرانسسکو پولیس نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اتوار کی رات ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن مخالف پالیسیوں کے خلاف مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کے دوران تقریباً 60 افراد کو گرفتار کر لیا۔ کیلیفورنیا کے دوسرے بڑے شہر لاس اینجلس میں جمعے سے جھڑپیں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ مقامی پولیس نے ’’ ایکس ‘‘ پر اطلاع دی ہے کہ ایک مظاہرے کے دوران صورتحال اس وقت بڑھ گئی جب کئی شرکاء پرتشدد ہو گئے۔ انہوں نے عمارتوں اور پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا تھا۔
یہ اس وقت سامنے آیا جب کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسوم نے پیر کے روز ٹرمپ انتظامیہ سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا کہ وہ لاس اینجلس میں نیشنل گارڈ کے دستوں کی تعیناتی کے حکم کو واپس لیں۔ امیگریشن کے چھاپوں کے خلاف جاری مظاہروں کے درمیان اتوار کو نیشنل گارڈ کے دستے شہر میں پہنچنا شروع ہوئے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک میمورنڈم پر دستخط کیے جس میں 2000 نیشنل گارڈ فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت دی گئی تاکہ افراتفری سے نمٹا جا سکے۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسوم نے یہ درخواست ایک خط میں کی جسے انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ ایکس ‘‘ پر شیئر کیا۔
I have formally requested the Trump Administration rescind their unlawful deployment of troops in Los Angeles county and return them to my command.
— Governor Gavin Newsom (@CAgovernor) June 8, 2025
We didn’t have a problem until Trump got involved. This is a serious breach of state sovereignty — inflaming tensions while… pic.twitter.com/SYIy81SZdH
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسوم نے لکھا کہ جب تک ٹرمپ مداخلت نہیں کرتے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ یہ ریاستی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ یہ چیز کشیدگی کوہوا دے رہی ہے جہاں سے وسائل کو سب سے زیادہ ضرورت ہے وہاں سے اسے ہٹایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا حکم منسوخ کرو۔ کیلیفورنیا کو کنٹرول واپس کرو۔ ہفتہ کے حکم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ 60 سالوں میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی امریکی صدر نے اپنے گورنر کی منظوری کے بغیر ریاست کے نیشنل گارڈ کو تعینات کیا ہے۔
آخری بار 1965 میں ایسا ہوا تھا جب صدر لنڈن جانسن نے الاباما میں شہری حقوق کی تحریک کے دوران سیاہ فام مظاہرین کی حفاظت کے لیے فوج کا استعمال کیا۔ پیر کے روز لاس اینجلس میں موجودہ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف احتجاج جاری رہا۔ نیشنل گارڈ کو سڑکوں پر تعینات کر دیا گیا۔ لاس اینجلس پولیس ڈیپارٹمنٹ نے مظاہروں کے دوران 56 گرفتاریوں کا اعلان کیا ہے۔
کیلیفورنیا نیشنل گارڈ کے دستوں کی اتوار کی شام لاس اینجلس میں مظاہرین کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امیگریشن مخالف مظاہروں کو روکنے کے لیے شہر پہنچنے کے چند گھنٹے بعد یہ جھڑپ ہوئی۔ یہ اس وقت سامنے آیا جب ہزاروں مظاہرین نے شہر لاس اینجلس میں ریلی نکالی۔ ایک اہم شاہراہ کو بلاک کر دیا اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہجوم پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور سٹن گرینیڈز کا استعمال کیا۔ نیشنل گارڈ کے دستے اتوار کی صبح لاس اینجلس پہنچے تھے۔
-
’’ سائیکو پیتھو اپنے شہر کو جلا دیتا ہے‘‘، امریکی وزیر دفاغ کی گورنر کیلیفورنیا پر تنقید
اگر لاس اینجلس میں تشدد جاری رہا تو میرینز کو متحرک کیا جائے گا: پیٹ ہیگستھ کا ...
بين الاقوامى -
امریکی صدر کا 12 ملکوں کے شہریوں کے امریکہ آنے پر پابندی کا فیصلہ نافذ العمل
تازہ ترین سفری پابندی میں شامل ممالک کے نام یہ ہیں : ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، ...
بين الاقوامى -
جلد ایٹمی معاملہ کے بارے میں امریکہ کو تجویز پیش کریں گے: ایران
ایران نے پیر کو کہا ہے کہ وہ جلد ہی امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنی ...
مشرق وسطی