دنیا بھر میں 122 ملین جبری نقلِ مکانی کا شکار، تعداد 'ناقابلِ جواز حد تک زیادہ ہے': یو این
اقوامِ متحدہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ تمام دنیا میں جبری نقلِ مکانی کا شکار ہونے والوں کی تعداد ریکارڈ بلندی سے قدرے کم ہوئی ہے لیکن بدستور "ناقابلِ جواز حد تک زیادہ" ہے۔
اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر نے کہا کہ 2024 کے آخر تک تمام دنیا میں ریکارڈ 123.2 ملین افراد جبری نقلِ مکانی کا شکار تھے۔
لیکن اس سال اپریل کے آخر تک یہ تعداد کم ہو کر 122.1 ملین رہ گئی کیونکہ شامی باشندوں نے برسوں کے ہنگاموں کے بعد اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا۔
تقریباً 20 لاکھ شامی بیرونِ ملک سے یا جنگ زدہ ملک کے اندر ہی اپنے گھروں کو واپس آنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
لیکن یو این ایچ سی آر نے خبردار کیا کہ دنیا میں بڑے تنازعات کس طرح شروع ہوئے، اس سے طے ہو گا کہ آیا یہ تعداد ایک بار پھر بڑھے گی یا نہیں۔
ایجنسی نے کہا کہ دنیا کے طول و عرض میں جنگ، تشدد اور ظلم و ستم سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی تعداد "ناقابلِ یقین حد تک زیادہ" ہے خاص طور پر ایسے دور میں جب انسانی امداد کے لیے مالی اعانت ختم ہو رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے کہا، "ہم بین الاقوامی تعلقات میں شدید نشیب و فراز کے دور میں رہ رہے ہیں جس میں جدید جنگ ایک نازک، دردناک منظرنامہ تشکیل دے رہی ہے اور شدید انسانی مصائب نمایاں ہیں۔ ہمیں امن کی تلاش کے لیے اپنی کوششوں کو دوگنا اور پناہ گزینوں اور اپنے گھروں سے بھاگنے پر مجبور دیگر افراد کے لیے دیرپا حل تلاش کرنا چاہیے۔"
یو این ایچ سی آر نے عالمی رجحانات پر اپنی سالانہ فلیگ شپ رپورٹ میں کہا کہ نقل مکانی کے اصل محرکات سوڈان، میانمار اور یوکرین کی طرح کے وسیع تنازعات ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اس سال کے ابتدائی مہینوں میں شامی شہریوں کی وطن واپسی میں اضافہ دیکھا گیا۔
الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد سے مئی کے وسط تک اندازاً 500,000 سے زیادہ شامی باشندے وطن واپس آئے جبکہ ایک اندازے کے مطابق 1.2 ملین اندرونی طور پر بے گھر افراد نومبر کے آخر سے اپنے آبائی علاقوں میں واپس جا چکے ہیں۔
یو این ایچ سی آر کا اندازہ ہے کہ 2025 کے آخر تک بیرونِ ملک سے 1.5 ملین شامی اور 20 لاکھ اندرونِ ملک بے گھر افراد گھروں کو واپس آ سکتے ہیں۔
سوڈان اب 14.3 ملین پناہ گزینوں اور اندرونِ ملک بے گھر افراد کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی جبری نقلِ مکانی کا شکار ہے جس نے شام (13.5 ملین) کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس کے بعد افغانستان (10.3 ملین) اور یوکرین (8.8 ملین) ہیں۔
سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "2025 کے بقیہ حصے کے دوران بہت کچھ اہم حالات کی حرکیات پر منحصر ہو گا۔ اس میں یہ بات شامل ہے کہ آیا امن یا کم از کم لڑائی کا خاتمہ ممکن ہو خاص طور پر جمہوریہ کانگو، سوڈان اور یوکرین میں۔"
یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ آیا افغانستان اور شام میں واپسی کے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔
ایک اور اہم عنصر یہ تھا کہ "موجودہ فنڈنگ میں کٹوتیوں کے اثرات کتنے سنگین ہوں گے" جو نقلِ مکانی کے خاتمے اور محفوظ اور باوقار واپسی کے حالات پیدا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
ایسے لوگوں کی تعداد گذشتہ عشرے میں تقریباً دوگنی ہو گئی ہے جو ظلم و ستم، تنازعات، تشدد، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور امنِ عامہ کو سنگین طور پر متأثر کرنے والے واقعات سے بھاگنے پر مجبور ہوئے۔
گذشتہ سال کے آخر میں دنیا میں 123.2 ملین کی تعداد 2023 کے اختتام کی نسبت سات ملین زیادہ تھی۔
یو این ایچ سی آر نے کہا، "2024 کے آخر میں دنیا میں 67 میں سے ایک شخص کو زبردستی بے گھر کیا گیا۔"
مجموعی طور پر 2024 میں جبری نقلِ مکانی کا شکار ہونے والے 9.8 ملین افراد اپنے گھروں کو واپس آئے جن میں 1.6 ملین پناہ گزین بھی شامل ہیں جو دو عشروں سے زیادہ عرصے کے لیے سب سے زیادہ ہیں اور 8.2 ملین اندرونِ ملک بے گھر افراد ہیں جو اب تک کی دوسری بلند ترین تعداد ہے۔
گرانڈی نے کہا، "ہم نے گذشتہ چھے مہینوں میں امید کی کچھ کرنیں دیکھی ہیں۔"
لیکن ڈی آر کانگو، میانمار، اور جنوبی سوڈان جیسے ممالک میں واپسی کے ساتھ ساتھ زبردست نئی نقلِ مکانی بھی دیکھی گئی۔
دو تہائی مہاجرین ہمسایہ ممالک میں مقیم ہیں۔
ایران (3.5 ملین)، ترکی (2.9 ملین)، کولمبیا (2.8 ملین)، جرمنی (2.7 ملین) اور یوگنڈا (1.8 ملین) پناہ گزینوں کی سب سے بڑی آبادی کی میزبانی کرتے ہیں۔
-
امریکہ نے اقوامِ متحدہ کے دو ریاستی حل کانفرنس سے دور رہنے کی اپیل کر دی
اسرائیل مخالف اقدامات پر سفارتی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں: واشنگٹن
بين الاقوامى -
"طبی اداروں پر بمباری کرکے اسرائیل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے"
طبی چیریٹی کے طور پر کام کرنے والے فرانسیسی ادارے نے اسرائیلی فوج کو طبی سہولیات ...
بين الاقوامى -
غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے اقوامِ متحدہ میں رائے شماری، امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت
قبل ازیں امریکہ سلامتی کونسل کی قراردادیں ویٹو کرتا رہا ہے
مشرق وسطی