نیتن یاہو کی ایران کو بھاری قیمت چکانے کی دھمکی ، کاتز کا بیروت کے منظرنامے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران نے شہریوں، خواتین اور بچوں پر بم باری کر کے "بہت بڑی قیمت چکانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔"

اتوار کے روز بات یام کے علاقے کے دورے میں نیتن یاہو نے زور دیا کہ اسرائیل اس جنگ کے اہداف کو حاصل کرے گا اور ایرانی جوہری خطرے کو ختم کر دے گا۔

بقا کی جنگ

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "ہم ایک بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں"۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب تمام اسرائیلی اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "سوچیں اگر تہران کے پاس ایسے 20 ہزار میزائل ہوں تو کیا ہو گا؟" انھوں نے خبردار کیا کہ "اسرائیل ایک سخت دشمن سے مقابلہ کر رہا ہے جو اسے تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔" اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق "ہم دو گنا وار کریں گے، اور ہم فتح یاب ہوں گے۔"

بیروت اور تہران

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے اس صورت حال کا موازنہ بیروت سے کیا، جس میں انھوں نے لبنان کے دار الحکومت کے جنوبی نواحی علاقوں پر گزشتہ سال کیے گئے شدید فضائی حملوں کا حوالہ دیا۔ ان حملوں میں پورا علاقہ کھنڈر بنا دیا گیا تھا۔ کاتز نے زور دیا کہ اسرائیلی فوج تہران سمیت دیگر شہروں میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے گی۔

•	تل ابیب سے  (روئٹرز)
• تل ابیب سے (روئٹرز)

اپنے بیان میں کاتز نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو "آمر" قرار دیا اور کہا کہ وہ تہران کو بیروت میں تبدیل کر رہے ہیں اور اپنے نظام کو بچانے کے لیے ایرانی عوام کو یرغمال بنا رہے ہیں۔

سخت جواب

دوسری جانب، ایرانی فوج نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں کارروائی جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ ان کا جواب "ایسا سخت ہو گا جو اسرائیل کو اس کے حملے پر پچھتانے پر مجبور کرے گا"۔

•	بیروت کے جنوابی نواحی علاقے ضاحیہ سے (آرکائیو - ایسوسی ایٹڈ پریس)
• بیروت کے جنوابی نواحی علاقے ضاحیہ سے (آرکائیو - ایسوسی ایٹڈ پریس)

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ اگر اسرائیل کی جارحیت جاری رہی تو ایران کا رد عمل "زیادہ فیصلہ کن اور سخت" ہو گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی فوج اب تک "قوت اور مناسب طریقے سے" جواب دے چکی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ "امریکہ اسرائیلی جارحیت میں براہِ راست شریک ہے۔"

اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ "بات یام" کو نشانہ بنانے کے لیے اس نے ٹھوس ایندھن سے چلنے والے ہدفی بیلسٹک میزائل "الحاج قاسم" کا استعمال کیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایران میں نشانہ بنانے کے لیے اہداف کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔

گزشتہ جمعہ سے اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں شدید فضائی حملوں کی ایک لہر شروع کی ہے، جن میں فوجی اڈے، جوہری تنصیبات، وزارت دفاع کے مراکز اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں درجنوں ہدفی قتل بھی کیے گئے، جن میں ایرانی فوج کے سربراہ محمد باقری، پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی اور 9 جوہری سائنس دان شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں