مراکش میں نوجوانوں اور نشے کے عادی افراد میں خودکشی بڑھتا رجحان
خفیہ فیس بک گروپس نے مراکش کی نوجوان خواتین کی کہانیاں سامنے لائی ہیں جو گہری نفسیاتی جدوجہد میں مبتلا ہیں اور اپنی زندگی ختم کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں
حالیہ برسوں میں مراکش کی سڑکیں خودکشی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافے سے لرز رہی ہیں، یہ المناک مناظر تقریبا روزانہ کے معمول بن چکے ہیں۔ صرف ایک ہفتے میں مراکش میں ایک افسوسناک سانحہ پیش آیا جب تانگیر میں ایک نوجوان ڈاکٹر نے اپنی جان لے لی اور ایک نابالغ بچہ مڈلٹ کے ایک دور دراز گاؤں میں پھانسی پر لٹکا ہوا پایا گیا۔ یہ دونوں واقعات پسماندہ گروپوں کے مصائب کی یاد دہانی کراتے اور خودکشی کے واقعات کی سنگینی سے خبردار کرتے ہیں۔
مراکش کی وزارت صحت کے مطابق مراکش میں خودکشی کے بارے میں ایک جامع مطالعہ کا فقدان ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق فی 100,000 باشندوں میں 7.2 خودکشیوں کی شرح ریکارڈ کی گئی ہے۔ مردوں میں 9.7 اور خواتین میں 4.7 خودکشیاں ہوتی ہیں۔ خودکشیوں کے حوالے سے مراکش شمالی افریقہ میں دوسرے نمبر پر ہے۔
تعداد سے ہٹ کر خفیہ فیس بک گروپس مراکش کی نوجوان خواتین کی کہانیوں کو ظاہر کر رہے ہیں۔ خواتین گہری نفسیاتی جدوجہد اور اپنی زندگی ختم کرنے کے بارے میں جنونی خیالات میں مبتلا ہیں۔ ایک خاتون نے لکھا کہ میں اس افسردگی سے لڑنے کی کوشش کر رہی ہوں جو میری روح کو کھا رہا ہے لیکن روشنی ہر دن کے ساتھ مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔
ان خطرات سے دوچار گروہ نفسیاتی، سماجی اور معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور سماجی مدد کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں۔ نوجوان اور نشے کے عادی افراد خودکشی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
سماجی نفسیات کی محقق بشریٰ المرابطی نے مراکش کے معاشرے کے متعدد گروہوں میں نفسیاتی کمزوری اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے اشارے سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروہ نوعمر، نشے کے عادی افراد، خواتین اور معاشی کمزوری کا شکار شہری ہیں۔
بشری المرابطی نے نشاندہی کی کہ انتہائی غربت اور جمع شدہ معاشی دباؤ ایک اور عنصر ہے جو خودکشی کا باعث بنتا ہے خاص طور پر ان لوگوں میں جو پہلے سے موجود نفسیاتی کمزوری کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا نفسیاتی اور ذہنی بیماریاں، جیسے شدید ڈپریشن اور شیزوفرینیا، ان سب سے نمایاں پیتھولوجیکل وجوہات میں سے ہیں جو افراد کو خودکشی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔
المرابطی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ نوعمر افراد شناختی بحران سے گزرتے ہیں جو اندرونی اور خاندانی تنازعات کو کھولتا ہے اور انہیں زیادہ حساس اور کمزور بنا دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے عادی افراد شیزوفرینیا جیسے سنگین ذہنی عارضے میں مبتلا ہونے کا خطرہ رکھتے ہیں جو انہیں تشدد یا خودکشی تک لے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بچے کی پیدائش کے بعد کچھ خواتین ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں جو محدود صورتوں میں خودکشی یا بچوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ تمام خواتین پر لاگو نہیں ہوتا۔