انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد میں قیدیوں کا تبادلہ ، کوریا جنگ میں انسانیت کی مثال

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شمالی کوریا سے ہزاروں قیدیوں کی واپسی کے لیے براہ راست مذاکرات کیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر جب جاپانی قبضے سے آزاد ہونے والی کورین جزیرہ نما تقسیم ہوئی تو شمال میں سوویت اور چینی حمایت یافتہ کوریا کی جمہوری عوامی جمہوریہ (شمالی کوریا) جبکہ جنوب میں امریکہ اور مغربی اتحادیوں کی پشت پناہی سے جمہوریہ کوریا (جنوبی کوریا) کا قیام عمل میں آیا۔

پچیس جون 1950ء کو شمالی کوریا نے اپنی فوجی برتری کے بل پر جنوبی کوریا پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں کوریا کی جنگ چھڑ گئی۔ اس تنازعے میں بعد ازاں امریکہ، اس کے اتحادی اور چین بھی شامل ہو گئے۔ جنگ کے آغاز ہی سے جنگی قیدیوں کا معاملہ نہایت اہمیت اختیار کر گیا اور مختلف فریقوں کے درمیان بیمار اور زخمی قیدیوں کی واپسی کے لیے سفارتی رابطے شروع ہو گئے۔

ابتدائی تبادلے

اپریل 1951ء میں اقوام متحدہ کی افواج جن میں امریکی اور ان کے اتحادی شامل تھے نے شمالی کوریا اور چین کے ساتھ محدود پیمانے پر قیدیوں کا تبادلہ شروع کیا۔ ان ابتدائی تبادلوں میں اقوام متحدہ کی افواج نے تقریباً 5194 شمالی کوریائی فوجیوں، 1030 چینی رضا کاروں اور درجنوں شہریوں کو واپس کیا۔ اس کے بدلے شمالی کوریا اور چین نے 684 جنگی قیدیوں کو رہا کیا جن میں 149 امریکی فوجی بھی شامل تھے۔

ان کامیاب ابتدائی تبادلوں کے بعد فریقین ایک بڑے پیمانے پر تبادلے پر متفق ہوئے تاکہ تمام قیدی اپنے وطن لوٹ سکیں۔

شمالی کوریا کے جنگی قیدی کی تصویر جو شمالی کوریا سے منحرف ہو گیا تھا۔

بڑے تبادلے کی راہ ہموار

مارچ 1953 میں بین الاقوامی افواج کے سربراہ جنرل مارک کلارک نے قیدیوں کی واپسی کی اہمیت پر زور دیا۔ اس پر شمالی کوریا نے جنیوا معاہدے کا احترام کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر قیدیوں کے تبادلے کی حمایت کا اعلان کیا، اور چین نے بھی اس موقف کی تائید کی۔

براہ راست مذاکرات اور بڑی ڈیل

اپریل 1953ءسے امریکہ اور شمالی کوریا نے براہ راست مذاکرات شروع کیے۔ ابتدائی معاہدے کے تحت امریکہ نے 100 اقوام متحدہ کے قیدیوں کے بدلے میں شمالی کوریا کے 500 قیدیوں کو مرحلہ وار رہا کرنے کی پیش کش کی۔ بعد میں دونوں جانب سے قیدیوں کی فہرستیں جاری کی گئیں جن میں ان کی قومیت، شناخت، صحت اور بیماریوں کی تفصیل درج تھی۔

قیدیوں کی سب سے بڑی واپسی

اگست سے دسمبر 1953ء کے درمیان دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی قیدیوں کی واپسی کا عمل مکمل ہوا۔ اقوام متحدہ کی افواج نے 75823 کمیونسٹ قیدیوں کو رہا کیا جن میں 70183 شمالی کوریائی تھے، جب کہ اس کے بدلے 12773 قیدی واپس لیے جن میں 3597 امریکی اور 7862 جنوبی کوریائی شامل تھے۔

یہ تبادلہ نہ صرف ایک بڑی انسانی کامیابی تھی بلکہ اس نے جنگ کے دوران بھی انسانیت کی ایک قابلِ فخر مثال قائم کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں