اسرائیل نے ایرانی میزائلوں کو روک کر بچا ہوا گولا بارود غزہ پر گرایا : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی میڈیا کی ایک تازہ رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران فضائی دفاعی مشن سے واپس آنے والے پائلٹوں کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنا بچا ہوا گولا بارود بارہا غزہ کی پٹی پر گرا دیں۔ "

بری افواج کی مدد"

رپورٹ کے مطابق، یہ عمل ابتدائی طور پر پائلٹوں کی طرف سے ایک "رضاکارانہ اقدام" کے طور پر شروع ہوا، جس کا مقصد یہ بتایا گیا کہ وہ خان یونس اور شمالی غزہ میں مصروف بری افواج کی مدد کرنا چاہتے تھے۔

تاہم یہ جلد ہی روز مرہ کی عملی پالیسی بن گئی، اور فضائیہ کے سربراہ "تومر بار" کے احکامات کے تحت تمام فضائی اسکواڈرنز میں اس پر عمل شروع کر دیا گیا۔

اسرائیلی اخبار "معاریف" کے مطابق، ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے پر مامور طیاروں نے صرف فضاء سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نہیں اٹھائے ہوئے تھے بلکہ فضاء سے زمین پر مار کرنے والے گولے بھی لے رکھے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جب یہ پائلٹ اپنے ایران سے متعلق مشن مکمل کر لیتے تو وہ کنٹرول رومز سے رابطہ کرتے اور اپنا بچا ہوا گولہ بارود غزہ کی پٹی کے اندر مخصوص اہداف پر گرانے کی پیش کش کرتے۔

فضائیہ کے اعلیٰ افسران نے بھی اس پہل کو قبول کر لیا، اور چند گھنٹوں کے اندر یہ عمل ایک معمول بن گیا، یہاں تک کہ اسکواڈرنز کو ہدایت دی گئی کہ وہ لینڈنگ سے قبل زمینی یونٹوں کے ساتھ ہم آہنگی کریں اور واپسی پر غزہ میں اہداف کو نشانہ بنائیں۔

عسکری حکام نے اس عمل کو "طاقت میں دو گنا اضافہ" قرار دیا، کیونکہ اس سے فضائیہ کو اضافی وسائل استعمال کیے بغیر غزہ میں بم باری کے دائرے کو وسعت دینے کا موقع ملا۔

رپورٹ کے مطابق، اس پالیسی کا نتیجہ غزہ پر "شدید فضائی حملوں کی لہر" کی صورت میں سامنے آیا، حالانکہ اصل جنگی محاذ ایران تھا۔

ادھر اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ روزانہ درجنوں جنگی طیارے اس عمل میں شریک رہے، اور ہر طیارے نے لینڈنگ سے قبل غزہ کی محصور پٹی پر اپنا بچا ہوا گولہ بارود گرایا۔

غزہ میں کارروائیاں

جمعرات کے روز ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدے دار نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی عسکری کارروائیاں تیز کر رہی ہے، جسے اس نے مہینوں بعد کی سب سے بڑی پیش رفت قرار دیا۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق، اس عہدے دار نے کہا کہ یہ بڑھتا ہوا عسکری دباؤ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے کسی معاہدے سے قبل ایک طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے۔

اس نے مزید کہا کہ باقی رہنے والے اہداف میں بیت حانون اور غزہ شہر پر کنٹرول حاصل کرنا، اور حماس کے دو بریگیڈز کو ختم کرنا شامل ہے۔

اس نے مزید کہا "فوجی کارروائی آئندہ دنوں میں بتدریج بڑھے گی"، اور فوج کا ارادہ ہے کہ مخصوص علاقوں میں حملوں کو اس وقت تک بڑھایا جائے جب تک کہ متوقع معاہدے کا با ضابطہ اعلان نہ ہو جائے۔

اگرچہ اس عمل کو وسائل بچانے کی حکمتِ عملی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر درحقیقت اس نے غزہ کو ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ایک ثانوی محاذ میں تبدیل کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں