برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے غزہ میں فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر صورتحال جوں کی توں رہی تو برطانیہ اسرائیل کے خلاف مزید اقدامات کرے گا۔
انہوں نے ایک پارلیمانی کمیٹی کے سامنے کہاکہ "ہمیں جنگ بندی تک پہنچنا ہی ہوگا"۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر غزہ میں جنگ جاری رہی تو کیا برطانیہ اسرائیل کے خلاف مزید اقدام کرے گا؟ تو ان کا جواب تھا: "ہاں، ہاں، ہم ایسا کریں گے"۔
ڈیوڈ لیمی نے غزہ میں امداد کی نئی تقسیم کے منصوبے کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگ مدد کے انتظار میں جان دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم غزہ میں امداد کی فراہمی کا مؤثر حل چاہتے ہیں تو اقوام متحدہ اور اس کی ایجنسیوں کا کردار ناگزیر ہے۔
"قابل مذمت اقدامات"
گذشتہ ماہ بھی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت پر "قابل مذمت اقدامات" کا الزام عائد کیا تھا اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے کے بعد ان کے طرز عمل کی شدید مذمت کی تھی۔
برطانوی پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا تھا کہ برطانیہ ان افراد اور تنظیموں پر نئی پابندیاں عائد کرنے جا رہا ہے جو مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے قیام میں ملوث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "برطانیہ اس بگڑتی صورتحال پر خاموش نہیں رہ سکتا"۔اسی پس منظر میں لندن نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے پر جاری بات چیت بھی معطل کر دی ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال مئی میں برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کی بات چیت معطل کی تھی اور غزہ جنگ کے تناظر میں اسرائیلی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا تھا۔
-
مزاحمت کاروں کی غزہ میں کامیاب گھات کارروائیاں، پانچ اسرائیلی فوج ہلاک، 14 زخمی
مقبوضہ فلسطین کے علاقے شمالی غزہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور ...
مشرق وسطی -
جنگ بندی شرائط منوانے کے لیے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں شدت
اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، جہاں گذشتہ چند ...
بين الاقوامى -
پہلی بار اسرائیل نے سینئر کمانڈرز کے قتل کے خوف سے "شیڈو جنرل سٹاف" تشکیل دیا
یہ اقدام آپریشن "رائزنگ لائن" کی تیاریوں اور سینئر ایرانی کمانڈروں کے خاتمے سے ...
مشرق وسطی