غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کو امید ظاہر کی تھی کہ چند دنوں میں کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔ نیوز میکس کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا مقصد حماس کے زیر حراست مزید اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرانا ہے۔
طفل يبكي والدته التي قتلها القصف على طابور مساعدات غذائية في دير البلح.. ويصرخ مرتجفا: سامحيني يمّا على إللي عملته فيكِ#العربية #غزة pic.twitter.com/tB5gUDJnt9
— العربية (@AlArabiya) July 11, 2025
اس سے پہلے نیتن یاہو نے غزہ میں مستقل جنگ بندی کو بنیادی شرائط کی تکمیل سے مشروط کر دیا تھا۔ انہوں نے پٹی کو مکمل طور پر غیر فوجی بنانے اور حماس کی کسی بھی فوجی یا حکومتی موجودگی کے خاتمے کی شرط لگائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ شرائط مذاکرات کے ذریعے پوری نہ کی گئیں تو انہیں طاقت کے ذریعے مسلط کیا جائے گا۔ اپنی طرف سے حماس نے کہا ہے کہ وہ جاری مذاکرات میں مثبت اور ذمہ داری کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ حماس نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر چوری اور رکاوٹ کا الزام لگایا، حماس نے کہا نیتن یاہو نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا جس میں ایک جامع ڈیل کا کہا گیا تھا۔ حماس نے نیتن یاہو کے حالیہ بیانات کو حوالہ دیا جس میں انہوں نے قیدیوں کے اہل خانہ کو بتایا کہ ایک جامع معاہدہ ناممکن ہے۔ حماس کے مطابق یہ بیان ان کے برے ارادوں اور معاہدے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوششوں کا ثبوت ہے۔
غزہ کی پٹی میں طبی ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کے آخری گھنٹوں میں اسرائیلی فضائی حملوں اور پٹی کے مختلف علاقوں پر مسلسل توپ خانے کی گولہ باری کے نتیجے میں 125 فلسطینی شہید ہوگئے۔ دیر البلح میں عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے 17 فلسطینیوں کو قتل کرڈایا ۔ یہ سب خواتین اور بچے تھے، یہ حملہ اس وقت ہوا جب وہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے زیر انتظام کھانے کی امداد کی تقسیم کے مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق حماس نے سات اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا جس میں تقریباً 1,200 افراد کو ہلاک اور 251 کو حراست میں لیا گیا۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق حملے کے جواب میں شروع کی گئی اسرائیلی جارحیت میں 57,000 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں ۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے وسیع علاقوں کو بھی تباہ کر دیا۔
لڑائی شروع ہونے کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان دو مرتبہ جنگ بندی ہوئی ہے، ایک سات روزہ جنگ بندی نومبر 2023 میں اور دوسری 57 روزہ جنگ بندی جنوری 2025 میں ہوئی۔ مارچ میں اسرائیل کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ حملے شروع کردیے۔