امریکی امداد میں کٹوتی کے عالمی اثرات: جنوبی افریقہ میں ایچ آئی وی ویکسین کی تحقیق رک گئی
ڈاکٹرز کی بڑی تعداد کے بے روزگار ہونے کا بھی خدشہ ہے
جنوبی افریقہ میں سائنسدانوں کے ایچ آئی وی ویکسین کی تحقیقاتی آزمائشیں شروع کرنے میں صرف ایک ہفتہ باقی تھا اور تاریخ کے ایک مہلک ترین وبائی مرض کو محدود کرنے کی طرف ایک اور قدم کے لیے امیدیں بہت زیادہ تھیں۔ پھر ایک ای میل آئی جس میں کہا گیا، "تمام کام بند کر دیں۔" وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ماتحت امریکہ اپنی تمام فنڈنگ واپس لے رہا تھا۔ اس خبر نے محققین کو بہت مایوسی کا شکار کر دیا جو ایک ایسے خطے میں رہتے اور کام کرتے ہیں جہاں باقی تمام دنیا سے زیادہ لوگ ایچ آئی وی کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے BRILLIANT نامی تحقیقی پروجیکٹ کا مقصد تھا: خطے کے جینیاتی تنوع اور گہری مہارت کا استعمال تاکہ ہر جگہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی امید پیدا ہو۔ لیکن اس منصوبے کے لیے امریکہ سے ملنے والے 46 ملین رک گئے جو اس سال کے شروع میں غیر ملکی امداد ختم کرنے کا ایک حصہ تھا کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی داخلی ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ٹرمپ نے جنوبی افریقہ پر سفید فام افریقی اقلیت کو نشانہ بنانے کے بے بنیاد الزامات لگائے جن کی وجہ سے یہ خاص طور پر سخت متأثر ہوا ہے۔ ملک کو یو ایس ایڈ اور ایچ آئی وی پر مرکوز پی ای پی ایف اے آر کے ذریعے سالانہ تقریباً 400 ملین ڈالر مل رہے تھے۔ اب یہ ختم ہو گیا ہے۔ اس شاندار پروگرام کی سربراہ گلینڈا گرےنے کہا، افریقی براعظم ایچ آئی وی کی ادویات کی ترقی کے لیے بہت اہم رہا ہے اور امریکہ میں کٹوتیوں سے مستقبل میں اس کی ایسے کام کرنے کی صلاحیت کو خطرہ لاحق ہے۔ اہم پیشرفت میں لیناکاپاویر کی تحقیقاتی آزمائشیں شامل ہیں جو ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے دنیا کی واحد دوا ہے جو سال میں دو بار استعمال ہوتی ہے۔ اسے حال ہی میں یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے استعمال کے لیے منظور کیا ہے۔ اس کی افادیت ظاہر کرنے والی ایک تحقیق میں نوجوان جنوبی افریقی شامل تھے۔ گرے نے کہا، "ہم تحقیق کو دنیا میں کسی بھی جگہ کے مقابلے میں بہتر، تیز تر اور سستا کرتے ہیں اور اس طرح جنوبی افریقہ کے ان پروگراموں کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے میری رائے میں دنیا بہت غریب ہو گئی ہے۔"
انہوں نے نوٹ کیا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کی ہنگامی صورتِ حال کے دوران جنوبی افریقہ نے جانسن اینڈ جانسن اور نوواویکس ویکسین کی جانچ کرکے ایک اہم کردار ادا کیا اور جنوبی افریقہ کے سائنسدانوں کی جینومک نگرانی مرض کی ایک اہم قسم کی شناخت کا باعث بنی۔
یونیورسٹی آف وٹ واٹرزرینڈ کے محققین کی ایک ٹیم تحقیقات کے لیے ایچ آئی وی ویکسین تیار کرنے والے یونٹ کا حصہ رہی ہے۔ وِٹس لیبارٹری کے اندر ٹیکنیشن نوزیفو ملوٹشوا نمونوں پر کام کرنے والے اور سفید گاؤن میں ملبوس نوجوان ڈاکٹروں میں شامل تھیں لیکن وہ جلد ہی نوکری سے محروم ہو سکتی ہیں۔ ان کی پوزیشن کا انحصار گرانٹ پر ہے۔ وہ اپنی تنخواہ اپنے خاندان کی کفالت اور تعلیمی اخراجات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ان کے ملک میں نوجوانوں کی بے روزگاری تقریباً 46 فیصد ہے۔
انہوں نے امریکی کٹوتیوں اور مجموعی غیر یقینی صورتِ حال کے بارے میں کہا، "یہ ایمانداری سے بہت افسوسناک اور تباہ کن ہے۔ ہم پورے برِاعظم میں دوسرے سائنسدانوں کے ساتھ تعاون کرنے سے بھی محروم رہیں گے۔" پروفیسر عبداللہ علی محققین کی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کے امید افزا نتائج برآمد ہوئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویکسین نے مدافعتی ردِ عمل پیدا کیا۔ لیکن اب اس رفتار کو اور ہر قسم کے کام کو روکنا پڑا ہے۔
دی BRILLIANT پروگرام رقم کی تلاش کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ اہم آلات کی خریداری رک گئی ہے۔ جنوبی افریقہ کے محکمہ صحت نے کہا ہے کہ اس پروگرام کے لیے تقریباً 100 محققین اور ایچ آئی وی سے متعلق دیگر افراد کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ منصوبوں کے تجربات میں شامل پوسٹ ڈاکٹریٹ طلباء کے لیے مالی اعانت خطرے میں ہے۔
جنوبی افریقہ کی حکومت نے اندازہ لگایا ہے کہ امدادی کٹوتیوں کی وجہ سے یونیورسٹیوں اور سائنس کونسلوں کو اگلے پانچ سالوں میں امریکی تحقیقی فنڈز میں تقریباً 107 ملین کا نقصان ہو سکتا ہے جس سے نہ صرف ایچ آئی وی بلکہ تپِ دق پر بھی پر کام متأثر ہو گا۔ ملک میں تپِ دق کے مریضوں کی بھی بڑی تعداد ہے۔
رقم اور متأثرین کا ڈیٹا کم ہے۔ جنوبی افریقہ کی حکومت نے کہا ہے کہ امریکی امداد کے متبادل کے لیے فنڈز تلاش کرنا بہت مشکل ہو گا۔ اور اب ایچ آئی وی انفیکشنز کی تعداد بڑھے گی۔ دوا حاصل کرنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کے ایچ آئی وی پروگرام کے کم از کم 8,000 ہیلتھ ورکرز کو پہلے ہی فارغ کر دیا گیا ہے۔ مریضوں اور ان کی نگہداشت کا سراغ لگانے والے محققین نیز ایچ آئی وی مشیر بھی ختم ہو گئے جو دیہی برادریوں میں کمزور مریضوں تک پہنچ سکتے تھے۔ ایک بڑے ادارے یونیورسٹیز ساؤتھ افریقہ نے محققین کے لیے بعض سب سے بڑے سکولوں میں منصوبوں کے لیے 110 ملین سے زیادہ رقم کے لیے قومی خزانے میں درخواست دی ہے۔
جیسا کہ جنوبی افریقہ اور وسع پیمانے پر افریقہ میں تحقیق اور صحت کو جدوجہد کرنا پڑ رہی تو جون میں جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران یو این ایڈز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر Winnie Byanyima خطرات اور جانوں کے خطرے سے بخوبی واقف تھیں۔ انہوں نے کہا، دوسرے ممالک بشمول زیمبیا، نائیجیریا، برونڈی اور آئیوری کوسٹ جو امریکی فنڈنگ پر بہت زیادہ انحصار کرتے تھے، پہلے ہی اپنے وسائل میں اضافہ کر رہے ہیں۔ بیان ییما نے کہا، "لیکن ہمیں یہ واضح طور پر سمجھنا ہو گا کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں، وہ اس طرح سے اعانت نہیں کرے گا جیسے امریکی وسائل کر رہے تھے۔"