پیر کے روز لندن ہائی کورٹ میں ' فلسطین ایکشن ' نامی انسانی حقوق کی بات کرنے والی تنظیم کے مقدمہ کی سماعت ہوگی ۔ اس مقدمے میں ' فلسطین ایکشن ' نے برطانوی حکومت کے اس اقدام کو چیلنج کیا ہے جو اسے دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے متعلق ہے۔
لیکن دوسرا مقدمہ ان زخمی اور بیمار فلسطینی بچوں کا ہے جن کا علاج برطانیہ میں کرنے کی سہولت دینے سے برطانیہ انکاری ہے۔ اس مقدمے کو انتہائی کمسن بچوں کی طرف سے ایک لا فرم ' لی ڈے ' نے چیلنج کیا ہے۔ برطانوی عوام میں اپنی حکومت کی اسرائیلی جنگ کی حمایت پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اسی کا اظہار مظاہروں اور عدالتوں میں شہریوں کی طرف سے دائر کردہ درخواستوں سے کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے برطانیہ میں ان دنوں لیبر پارٹی کی حکومت ہے جو انسانی حقوق ، آزادی و ہمدردی پر زیادہ یقین رکھنے والی خیال کی جاتی ہے۔تاہم اس حکومت کو بھی جنگ زدہ غزہ کے زخمی بچوں کو اپنے ہاں علاج معالجے کی سہولت دینے سے انکار کی وجہ سے عدالت میں مقدمے کا سامنا ہے۔
لیبر پارٹی کی حکومت کو اسی ہفتے کے اواخر تک اس بارے میں عدالت میں اپنا جواب جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے۔
یہ مقدمہ غزہ کے تین کمسن بے ضرر بچوں کی طرف سے سدائر کیا گیا ہے۔ ان بچوں کی عمریں دو سے پانچ سال کے درمیان ہیں۔ ان کی مدد ایک لا فرم ' لی ڈے ' کر رہی ہے۔
ایک چھوٹا بچہ جس کے رخساروں سے خون بہنے کی مسلسل شکایت ہے۔ اس عارضے نے اس کی حالت نازک کر دی ہے۔ لیکن اسے برطانیہ آنے کی اس لیے اجازت نہیں کہ وہ عزہ کا فلسطینی ہے۔ دوسرے دو بچے دو بہن بھائی ہیں۔ ان کی عمر پانچ سال ہے اور دونوں کو گردوں کا مسئلہ درپیش ہے۔
برطانیہ کے معروف اخبار ' دی گارڈیئن ' کے مطابق ' لی ڈے' نامی قانونی فرم نے برطانوی حکومت کے ان بچوں کو علاج کے لیے برطانیہ آنے سے روکنے کے اقدام کو چیلنج کیا ہے۔ اس سلسلے میں لا فرم نے برطانیہ کی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ دونوں کو فریق بنایا ہے کہ یہ ان بچوں کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہوئی ہیں۔ غزہ میں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اور لاکھوں افراد زندگی بچانے کے لیے ہسپتالوں اور ادویات سے محروم ہیں۔
برطانیہ جو کہ اسرائیل کے اہم ترین حامیوں اور اتحادہوں میں سے ایک ہے۔ غزہ میں جاری جنگ اسرائیل امریکہ کے بعد برطانیہ جیسے مہربان ملکوں کی مدد اور اسلحے کے بغیر لڑ ہی نہیں سکتا تھا۔ تاہم ان بچوں کو علاج کی سہولت نہ دینے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ برطانیہ نے پہلے ہی پانچ لاکھ فلسطینیوں کو علاج اور ادویات میں مدد دی ہے۔
عدالت سے رجوع کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ ان بچوں کی جان بچانے کا معاملہ ہے۔ کہ یہ زخمی اور بیمار ادویات سے محروم اسرائیلی ناکہ بندی میں بے بس ہیں۔ ' لی ڈے ' لا فرم کی وکیل کیرولین اوٹ ان بچوں کی حالت کے بارے میں حکومت کو جھنجھوڑنے میں لگی ہوئی ہیں۔
' دی گارڈیئن ' کی رپورٹ کے مطابق گردوں کے عاضے میں مبتلا ایک پانچ سالہ بچہ اب چلنے سے بھی عاری ہے۔ ان بچوں کے لیے علاج کی سہولت چاہنے کے حامی کہتے ہیں کہ ان بچوں کے بارے میں برطانوی حکومت کا موقف برطانیہ کے دیگر دعوؤں سے متصادم ہے۔
یاد رہے اسرائیلی فوج غزہ میں جاری اپنی بائیس مہینوں کی جنگ کے دوران کم از کم 17000 فلسطینی بچوں کو قتل کر چکی ہے۔ مجموعی طور پر 58700 سے زائد فلسطینی قتل کیے ہیں۔ اب وہاں بھوک ، قحط اور ناکہ بندی کی وجہ سے ادویات کی عدم دستیابی بھی بچوں اور بڑوں کی موت کا سبب ہیں۔
ڈاکٹر ہانی اسلم جو اب تک غزہ سے 22 زخمیوں اور مریضوں کو نکالنے میں کامیاب ہو چکے ہیں کہتے ہیں کہ بین الاقومی سطح پر زخمی اور بیماروں کو اپنے ہاں قبول کرنے میں ہچکچاہٹ بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
برطانوی حکومت کو عدالت میں اس سلسلے میں 28 جولائی تک اپنا جواب جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے۔