مراکش میں ہزاروں افراد کا احتجاج: غزہ جنگ کے خاتمے کا مطالبہ

اسرائیل اور مراکش کے درمیان 2020 کا معاہدہ ابراھام تنقید کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ہزاروں مراکشی باشندوں نے غزہ میں جاری سنگین انسانی صورتِ حال کے خلاف اتوار کو دارالحکومت رباط میں مظاہرہ کیا جس میں اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کا معاہدہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

مظاہرین شہر کے وسط میں جمع ہو گئے جنہوں نے فلسطینی پرچم اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر جنگ سے تباہ شدہ فلسطینی سرزمین پر امداد کی بلاتعطل فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

لوگوں نے "یہ توہین ہے، غزہ حملے کی زد میں ہے،" "ناکہ بندی اٹھاؤ،" "مراکش، فلسطین، ایک لوگ" اور "معمول کے تعلقات سے انکار" کے نعرے لگائے۔

وہ مختلف تنظیموں کے مطالبے پر جمع ہوئے تھے جن میں اسلامی تحریک العدل والاحسان اور بائیں بازو کی جماعتوں کو متجمع کرنے والا اتحاد بھی شامل ہے۔

دارالحکومت رباط میں 19 جولائی 2025 کو غزہ کے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مارچ کے دوران مراکش کے لوگ فلسطینی پرچم لہرا رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

ڈاکٹروں اور امدادی ایجنسیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے جسمانی اور ذہنی صحت پر 21 ماہ کی جنگ کے اثرات دیکھے ہیں جن میں غذائیت کی شدید تر قلت بھی شامل ہے۔

مظاہرین میں سے ایک شخص جمال بہار نے کہا، "فلسطینیوں کو پوری دنیا کی نظروں کے سامنے بھوکا رکھا اور قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس ڈرامائی، ناقابلِ برداشت صورتِ حال کی مذمت کریں۔"

مراکش اور اسرائیل نے امریکی ثالثی میں 2020 میں تعلقات معمول پر لانے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جیسا کہ غزہ جنگ 22ویں مہینے میں داخل ہو رہی ہے تو شمالی افریقی مملکت میں یہ معاہدہ تیزی سے تنقیدی حملوں کی زد میں آ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں