امریکہ نے یونیسکو سے بھی الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

'سب سے پہلے امریکہ' کی صدر ٹرمپ کی اختیارکردہ پالیسی کے تحت بین الاقوامی اداروں سے امریکہ کو الگ کرنے کے سلسلے میں امریکہ یونیسکو سے بھی خود کو نکال لے گا۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کے اس ادارے پر ایک طویل عرصے سے تنقید بھی کرتے آئے ہیں۔ یونیسکو سے خود کو الگ کرنے کے بارے میں خبر نیو یارک پوسٹ نے وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے حوالے سے منگل کے روز دی ہے۔

صدر ٹرمپ جو ایک خاص بزنس پس منظر رکھتے ہیں ۔ اس سے پہلے دنیا بھر میں سماجی شعبوں میں خدمات کی شہرت رکھنے والے امریکی ادارے یو ایس ایڈ کو بھی ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ جس طرح ملک کے اندر حکومتی اصلاحات کر کے اور ڈاؤن سائزنگ کے ذریعے حکومتی اخراجات میں کمی ضروری ہے اسی طرح بین الاقوامی سطح پر بھی ہر اس شراکت داری اور ذمہ داری سے گریز کیا جائے جو خرچے والا ہو۔ ان کے نزدیک امریکی فائدہ ہر چیز سے اہم ہے۔

تاہم یونیسکو کے پلیٹ فارم سےامریکہ کے الگ ہونے کے فیصلے سے متعلق اس خبر کے بارے وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر درخواست کے باوجود تبصرہ نہیں کیا ہے۔ امریکہ کے اس فیصلے پر عمل کی صورت میں پیرس میں قائم اقوام متحدہ کے اس ادارے کو بہر حال ایک دھچکا لگے گا۔ یہ ادارہ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم کیا گیا تھا اور تب سے دنیا میں فروغ تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس اور ثقافت کے اشتراک کے ذریعے امن کے لیے کوشاں ہے۔

یاد رہے صدر ٹرمپ اپنے پہلے دور صدارت میں اسی طرح کے اقدامات کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت ، یو این ہیومن رائٹس کونسل اور گلوبل کلائیمیٹ چینج جیسے اداروں کے علاوہ ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے سے بھی امریکہ کو نکال چکے ہیں۔

البتہ بعد ازاں 2021 میں صدر جوبائیڈن نے بعض اداروں سے نکل جانے کے ماضی کے اقدام کو پلٹ دیا تھا اوردوبارہ امریکہ کو رکن بنا دیا تھا۔ ان اداروں میں ڈبلیو ایچ او، یونیسکو اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بین الاقوامی جیسے ادارے شامل تھے۔

اب جب سے صدر ٹرمپ دوبارہ وائٹ ہاؤس واپس آئے ہیں وہ امریکہ کو ان بین الاقوامی اداروں کے بوجھ اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی شراکت داری کے بوجھ سے آزاد کرنے کی کوشش میں ہیں۔

یونیسکو جس کا مکمل نام یونائتڈ نیشن ایجوکیشنل سائنٹفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن ہے بین الاقوامی سطح پر عالمی ورثے کے حوالے سے بھی اہم کام کررہا ہے۔ دنیا بھر میں قدیمی ورثے کے تحفظ کے لیے اس ادارے کی خدمات منفرد ہیں۔

خیال رہے اس ادارے کو امریکہ نے 1945 میں جوائن کیا تھا۔ بعد ازاں 1984 میں اس ادارے میں کچھ مالی امور سے متعلق شکایات پر امریکہ اس سے الگ ہو گیا۔ تقریباً بیس سال کے وقفے کے بعد امریکہ نے 2003 میں دوبارہ یونیسکو میں شمولیت اختیار کر لی۔ صدر بش کے دور میں دوبارہ جوائننگ یونیسکو کی طرف سے اصلاحات کی یقین دہانی کے بعد کی گئی تھی۔

یونیسکو نے امریکہ کے اس ادارے سے الگ ہونے کی خبروں پر کہا ہے ' یونیسکو اب امریکہ پر ماضی کے مقابلے میں بہت کم انحصار کرتا ہے۔ اس لیے امریکہ کے چھوڑ جانے سے بہت معمولی اثرات ہوں گے۔ امریکہ ماضی کے مقابلے میں یونیسکو کے مجموعی بجٹ کے بیس فیصد کے بجائے آٹھ فیصد حصہ دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size