غزہ میں امداد کے منتظر شہریوں کا قتل ناقابلِ جواز ہے: یورپی یونین

یورپی عہدیدار کا اسرائیلی فوج سے فوری طور پر کارروائیاں روکنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ غزہ میں امداد کے منتظر عام شہریوں کو قتل کرنا ایسا اقدام ہے جس کا کسی طور دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اسرائیلی فوج پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر امدادی مراکز کے قریب شہریوں کو نشانہ بنانا بند کرے۔

کایا کالاس نے منگل کے روز ’ایکس‘ پر پوسٹ کردہ بیان میں کہا کہ ’’غزہ میں مدد کے منتظر شہریوں کا قتل ناقابلِ دفاع ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں نے ایک بار پھر اسرائیل کے وزیر دفاع گدعون ساعر سے گفتگو کی ہے تاکہ انہیں امدادی سامان کی فراہمی سے متعلق ہماری مفاہمت یاد دلاؤں اور یہ واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو تقسیم کے مراکز پر شہریوں کو ہلاک کرنا بند کرنا ہو گا‘‘۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 27 مئی سے اب تک کم از کم ایک ہزار افراد اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 6 ہزار 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بیشتر اس وقت نشانہ بنے جب وہ امدادی سامان کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات ان مقامات پر پیش آئے جو "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (GHF)" کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔ یہ ادارہ اسرائیل اور امریکہ کی حمایت سے 27 مئی سے فعال ہوا، تاہم مقامی سطح پر اسے تنازع کا شکار اور متنازع ادارہ سمجھا جا رہا ہے۔

فلسطینی حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کی بڑی ذمہ داری اسرائیلی فوج پر عائد ہوتی ہے۔ اگرچہ اسرائیلی فوج نے کچھ واقعات میں بھیڑ پر ’’انتباہی فائرنگ‘‘ کا اعتراف کیا ہے تاہم اس نے کئی دیگر واقعات کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا ہے۔

جون کے آخر میں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے امدادی مراکز تک رسائی کے راستوں کو نئے سرے سے منظم کیا ہے تاکہ شہریوں سے ’’براہ راست ٹکراؤ‘‘ کم ہو، لیکن اس کے باوجود شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن" کے قیام سے قبل تقریباً ڈھائی ماہ تک اسرائیل نے تمام خوراک، پانی اور ادویات کی غزہ میں فراہمی روک دی تھی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اقوام متحدہ کے تحت قائم پرانے نظام کے ذریعے پہنچنے والی امداد کو حماس مبینہ طور پر ہتھیا رہی تھی۔ اسرائیل اب چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ کے نظام کے بجائے "GHF" اس کی جگہ لے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں