اسرائیل کی طرف سے امریکہ کے یونیسکو سے نکلنے کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزارت خارجہ نے منگل کے روز امریکہ کے اس فیصلے کو سراہا ہے جس کے تحت امریکہ نے اقوام متحدہ کے فروغ تعلیم، فروغ ثقافت اور بچوں کے لیے کام کرنے والے ادارے یونیسکو سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ جدعون ساعر نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر دیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اقدامات کیے جائیں اور انصاف پروان چڑھایا جائے اور اسرائیل کے ساتھ اقوام متحدہ میں بہتر سلوک کیا جائے۔

امریکہ نے یونیسکو پر الزام لگایا ہے کہ اسرائیل کے خلاف متعصبانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ یونیسکو سے نکلنے پر امریکہ نے منگل ہی کے روز کہا کہ یونیسکو میں امریکی شمولیت امریکہ کے قومی مفاد میں نہیں ہے۔

امریکی محکمہ خارججہ کے ترمان ٹمی بروس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یونیسکو سماجی و ثقافتی اعتبار سے تقسیم کے اسباب کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ 'سب سے پہلے امریکہ' پالیسی کے خلاف ہے۔

یاد رہے اس ادارے کو امریکہ نے 1945 میں جوائن کیا تھا۔ بعد ازاں 1984 میں اس ادارے میں کچھ مالی امور سے متعلق شکایات پر امریکہ اس سے الگ ہو گیا۔ تقریباً 20 سال کے وقفے کے بعد امریکہ نے 2003 میں دوبارہ یونیسکو میں شمولیت اختیار کر لی۔ صدر بش کے دور میں دوبارہ جوائننگ یونیسکو کی طرف سے اصلاحات کی یقین دہانی کے بعد کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں