پانچ آسٹریلوی خواتین جن کا مؤقف ہے کہ انہیں مسلح گارڈز نے قطر ایئرویز کی پرواز سے نکالا اور ان کا نامناسب جسمانی معائنہ کیا گیا تھا، نے ایئرلائن پر مقدمہ کرنے کا حق حاصل کر لیا ہے۔ مقدمہ خارج کرنے کے سابقہ فیصلے کو ایک عدالت نے جمعرات کو کالعدم قرار دے دیا۔
اکتوبر 2020 میں دوحہ کے حمد ایئرپورٹ پر ایک نوزائیدہ بچے کے لاوارث پائے جانے کے بعد قطر ایئرویز کی 10 پروازوں میں 13 آسٹریلوی باشندوں سمیت خواتین کا ناگوار جسمانی معائنہ کیا گیا تھا کہ آیا انہوں نے حال ہی میں بچے کو پیدائش دی تھی یا نہیں۔
اس واقعے پر تمام دنیا کے میڈیا میں سرخیاں بنیں، آسٹریلیا میں غم و غصہ پیدا ہوا اور قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کشیدہ ہو گئے۔
سڈنی جانے والی پرواز میں سفر کرنے والی پانچ خواتین کے ایک گروپ نے 2022 میں قطر ایئرویز، دوحہ ایئرپورٹ مطار کے آپریٹر اور قطر کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی۔
انہوں نے مونٹریال کنونشن کے تحت دعویٰ کیا جس میں ایئرلائن کے فرائض کے ساتھ ساتھ غفلت، حملے یا زیادتی اور جھوٹی قید کا احاطہ کیا گیا ہے۔
خواتین نے اپنی ذہنی صحت پر ہونے والے اثرات کے لیے ہرجانے کا مطالبہ کیا جن میں ڈپریشن اور "غیر قانونی جسمانی رابطے" سے پیدا ہونے والے صدمے کے بعد دباؤ کا عارضہ شامل تھا۔
بعض خواتین نے دعویٰ کیا کہ مسلح قطری حکام نے انہیں پرواز سے اتار دیا جس کے بعد انہیں زیر جامہ اتارنے پر مجبور کیا گیا اور ٹارمک پر کھڑی ایک ایمبولینس میں نرس نے ان کی رضامندی کے بغیر انہیں نسوانی معائنے کا نشانہ بنایا۔
فیڈرل کورٹ کے جسٹس جان ہیلی نے گذشتہ سال قطر ایئرویز کے خلاف دعووں کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ ان کی کامیابی کا کوئی معقول امکان نہیں تھا اور یہ کہ قطر سول ایوی ایشن اتھارٹی کو آسٹریلیا کے قانون سے غیر ملکی ریاست کا استثنیٰ حاصل تھا۔
جمعرات کو مکمل وفاقی عدالت نے قطر ایئرویز کے فیصلے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ معاملہ اتنا پیچیدہ تھا کہ اسے سرسری طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا تھا۔
سمری فیصلے میں کہا گیا، "یہ معاملہ کچھ پیچیدہ ہے کہ یہ دعوے (مونٹریال کنونشن) کے دائرہ کار میں آتے ہیں یا نہیں۔ اس لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ سمری برخاستگی کے مرحلے پر فیصلہ دے دیا جائے۔"
یہ فیصلہ خواتین کو قطر ایئرویز اور مطار کے خلاف اپنا مقدمہ جاری رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ دونوں کمپنیوں کو اپیل کے اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
"ہمارے مؤکلین کو دوحہ میں اس رات ایک تکلیف دہ تجربے سےگذرنا پڑا اور وہ عدالت سے اپنی تکلیف کے لیے ہرجانے کی مستحق ہیں۔ ہم ان کی حمایت جاری رکھیں گے کیونکہ کیس وفاقی عدالت میں جاری ہے،" خواتین کی نمائندگی کرنے والے مارک لائرز کے وکیل ڈیمین سٹرزاکر نے کہا۔