پاکستان فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے چین کا سرکاری دورہ کیا۔ اس دورے میں انہوں نے چینی دارالحکومت بیجنگ میں چین کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں پاکستان اور چین کے مضبوط سٹریٹیجک تعلقات کا اعادہ کیا گیا۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے چین کے نائب صدر ہان ژینگ اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں خطے اور عالمی سطح پر بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت رابطہ سازی کے منصوبوں اور مشترکہ جغرافیائی و سیاسی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر بات چیت کی گئی۔
دونوں جانب سے دو طرفہ روابط کی گہرائی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور خودمختار مساوات، کثیر جہتی تعاون اور دیرپا علاقائی استحکام کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں میں خودمختاری، کثیرالجہتی تعاون اور طویل مدتی علاقائی استحکام کے عزم کو دہرایا گیا، چینی قیادت نے پاکستان کی مسلح افواج کو جنوبی ایشیا میں امن کی ضامن اور ایک مضبوط قوت قرار دیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے چین کے نائب چیئرمین سینٹرل ملٹری کمیشن (سی ایم سی) جنرل ژانگ یو ژیا، پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے سیاسی کمشنر جنرل چن ہوئی اور پی ایل اے آرمی کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل کائی ژائی جن سے بھی ملاقاتیں کیں۔
پی ایل اے آرمی ہیڈکوارٹرز پہنچنے پر چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جو دونوں مسلح افواج کے درمیان دیرینہ دوستی کی علامت تھا۔
فیلڈ مارشل کی چینی عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں دفاعی و سکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، انسداد دہشت گردی کے لیے مشترکہ اقدامات، باہمی تربیت، دفاعی جدیدیت اور ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر گفتگو کی گئی، فریقین نے ہائبرڈ اور سرحد پار خطرات سے نمٹنے کے لیے آپریشنل ہم آہنگی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بھی زور دیا۔
چینی عسکری قیادت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی شراکت داری پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے علاقائی امن کے فروغ میں پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہا، فیلڈ مارشل نے چین کی مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور فوجی شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل کا دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان سیاسی و عسکری تعلقات کی بڑھتی ہوئی گہرائی کا عکاس ہے، دورہ اس امر کو اجاگر کرتا ہے کہ علاقائی سلامتی کو مستحکم بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے روابط اور مسلسل مشاورت ناگزیر ہے۔