امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے 60 ملین ڈالر کی امداد کے دعوے کے باوجود امریکی وزارتِ خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ اصل میں صرف 30 ملین ڈالر مختص کیے گئے تھے، جن میں سے محض 3 ملین ڈالر یعنی صرف دس فیصد خرچ کیے گئے۔
یہ رقم “غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن” (GHF) نامی ادارے کو فراہم کی گئی جو ایک امریکی و اسرائیلی تعاون سے چلنے والا غذائی تقسیم کا نظام ہے۔ امریکی اخبار “واشنگٹن پوسٹ” کے مطابق، یہ ادارہ مالی قلت اور اسرائیلی منظوری کے بغیر شمالی غزہ میں مزید مراکز کھولنے سے قاصر ہے۔
ریلیف سرگرمیوں سے وابستہ ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکہ نے GHF سے وابستہ شراکت داروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ادارے کو مالی مشکلات کا شکار نہیں ہونے دے گا، اور مزید مقامات پر امدادی تقسیم کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے غذائی سامان کی ترسیل پر عائد پابندیوں پر عالمی سطح پر سخت تنقید کی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب GHF کے مراکز کے آس پاس سینکڑوں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ متعدد ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ GHF کی سرگرمیاں بند کی جائیں اور اقوام متحدہ کو امداد کی تقسیم کا اختیار دیا جائے۔
تاہم امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ GHF ہی ان کا ترجیحی ماڈل ہے اور وہ اقوام متحدہ یا دیگر عالمی تنظیموں کو اس ذمہ داری کے لیے موزوں نہیں سمجھتی۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں کا دعویٰ ہے کہ اقوام متحدہ کی قافلوں سے امداد حماس کے ہاتھوں لوٹی جاتی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ وارداتیں غزہ کے عوام کی شدید بھوک اور مایوسی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
انسانی بحران کے پس منظر میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف اور اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہاکابی نے GHF کے ایک امدادی مرکز کا دورہ کیا۔ ویٹکوف کے مطابق، اس دورے کا مقصد صدر ٹرمپ کو صورتِ حال سے آگاہ کرنا اور امداد کی ترسیل کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی پر غور کرنا تھا۔ تاہم اس مجوزہ حکمتِ عملی کی تفصیلات ابھی تک ظاہر نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب GHF کو لاجسٹکس اور سکیورٹی فراہم کرنے والی امریکی کمپنیوں کے معاہدے کی مدت تین ہفتوں میں ختم ہو رہی ہے، جبکہ اسرائیلی حکومت نے اب تک اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ وہ بھی مالی امداد فراہم کرے گی یا نہیں۔