امریکی نشریاتی ادارے "این بی سی" کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔ یہ صورت حال اس وقت پیش آئی جب نیتن یاہو نے غزہ میں قحط کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے اسے "حماس کا گھڑا ہوا جھوٹ" قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے برہمی سے نیتن یاہو کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بھوک کوئی جھوٹ نہیں ہے۔ امریکی صدر باور کرایا کہ انھوں نے ذاتی طور پر قحط کے حقیقی شواہد دیکھے ہیں، جن میں ان کے مشیروں کی جانب سے دکھائی گئی بچوں کی ایسی تصاویر شامل ہیں جو بھوک سے مر رہے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات اس وقت تناؤ کا شکار ہیں، بالخصوص وائٹ ہاؤس کی تشویش کے باعث جو "غزہ ہیومینیٹیرین ایڈ فنڈ" کے طریقہ کار پر ہے۔ یہ امدادی منصوبہ امریکہ اور اسرائیل دونوں کا حمایت یافتہ ہے۔
یہ تنازع 27 جولائی کو اس وقت شروع ہوا جب نیتن یاہو نے بیت المقدس میں ایک تقریب میں کہا "غزہ میں بھوک کی کوئی پالیسی نہیں ہے، اور وہاں بھوک موجود نہیں ہے۔" اگلے ہی روز اسکاٹ لینڈ کے دورے کے دوران ٹرمپ نے ان بیانات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے غزہ کے ایسے بچوں کی تصاویر دیکھی ہیں جو "انتہائی بھوکے دکھائی دیتے ہیں"، اور وہاں "حقیقی قحط" موجود ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ "آپ اسے جعلی نہیں بنا سکتے"۔
اس کے بعد نیتن یاہو نے نجی طور پر ٹرمپ سے فون پر بات کرنے کی درخواست کی، اور چند گھنٹوں میں دونوں رہنماؤں کا رابطہ کرا دیا گیا۔ گفتگو کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ قحط کی خبریں درست نہیں اور یہ "حماس کا گھڑا ہوا جھوٹ" ہے۔ تاہم ٹرمپ نے ان کی بات کاٹ کر سخت لہجے میں کہا کہ وہ یہ سننا نہیں چاہتے کہ قحط جھوٹ ہے، کیونکہ ان کے پاس بچوں کے بھوک سے تڑپنے کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی حکام نے اس مکالمے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایک سابق امریکی اہل کار نے اس کال کو "براہِ راست اور یک طرفہ" قرار دیا، جس میں زیادہ تر بات ٹرمپ کر رہے تھے۔ انھوں نے مزید کہا "امریکہ نہ صرف اس صورت حال کو سنگین سمجھتا ہے بلکہ غزہ ہیومینیٹیرین ایڈ فنڈ کی وجہ سے خود کو اس کا ذمے دار بھی محسوس کرتا ہے۔"