ایران کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز امریکی ثالثی میں ہونے والے آرمینیا-آذربائیجان امن معاہدے کا خیر مقدم کیا لیکن اس معاہدے سے واشنگٹن کو ایرانی سرحد کے قریب جو ترقیاتی حقوق ملے ہیں، ان کے حوالے سے غیر ملکی مداخلت کے خلاف خبردار بھی کیا۔
مذکورہ معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان جاری دیرینہ تنازعہ ختم ہو گیا جس میں آرمینیا کے راستے ایک راہداری کی تشکیل بھی شامل ہے تاکہ آذربائیجان کو اس کے خارجہ علاقے (ایکسکلیو) نخچیوان سے ملایا جائے جو باکو کا دیرینہ مطالبہ ہے۔
تزویری اہمیت کے حامل اور وسائل سے مالا مال خطے میں راہداری کے ترقیاتی حقوق امریکہ کے پاس ہوں گے جسے "ٹرمپ روٹ فار انٹرنیشنل پیس اینڈ پراسپیرٹی" (TRIPP) کا نام دیا گیا ہے۔
اکثر زنگیزور کہلانے والی اس راہداری کی ایران نے اس خدشے کی بنا پر طویل عرصے سے مخالفت کی ہے کہ یہ ملک کو قفقاز خطے سے منقطع کر دے گی اور غیر ملکی عناصر کی موجودگی کو اس کی سرحد پر لے آئے گی۔
ایک بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ نے "دونوں ممالک کی طرف سے امن معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے" کا خیرمقدم کیا لیکن "کسی بھی طرح سے اور کسی بھی شکل میں خاص طور پر مشترکہ سرحدوں کے قریب کسی بیرونی مداخلت کے منفی نتائج پر تشویش کا اظہار کیا۔"
وزارت نے مزید کہا کہ ایسے اقدام سے "خطے کی سلامتی اور دیرپا استحکام میں خلل پیدا ہو گا۔"
پیر کے روز ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے ایک سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے خبردار کیا کہ علاقائی یا بیرونی طاقتوں کی زنگیزور راہداری کو آگے دھکیلنے کی کسی بھی کوشش پر ایران کی جانب سے "سخت جواب" کا سامنا کرنا ہو گا۔
"میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ خطے میں یا اس سے باہر کی کوئی بھی حکومت جو سابقہ ناکام تجربہ دہرانا چاہتی ہے، اسے ایران کی طرف سے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا ہو گا،" انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا۔
عیسائی اکثریتی آرمینیا اور مسلم اکثریتی آذربائیجان کئی عشروں سے اپنی سرحدوں اور ایک دوسرے کے علاقوں میں نسلی انکلیو کی حیثیت پر جھگڑتے رہے ہیں۔
دونوں اقوام نے متنازعہ علاقے کاراباخ پر دو بار جنگ لڑی جسے آذربائیجان نے 2023 میں ایک طوفانی حملے میں آرمینیائی افواج سے دوبارہ حاصل کر لیا تھا۔ اس سے 100,000 سے زیادہ نسلی آرمینیائی باشندوں کے اخراج کا آغاز ہوا۔
جمعے کے معاہدے سے آرمینیا کو کیا فائدہ ہوا، اس سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا، یہ "ایک بہت بڑا تزویری تجارتی شراکت دار ہے جو شاید دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا اور تزویری اہمیت کا حامل ہے: امریکہ۔"
انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "یہاں خسارے میں رہنے والے چین، روس اور ایران ہیں۔"