ٹرمپ سے ملاقات ... پوتین کے ہمراہ الاسکا جانے والے 5 عہدے داران کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

دنیا بھر کی نظریں کل جمعے کے روز الاسکا پر مرکوز ہوں گی، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں فروری 2022 سے جاری روس یوکرین جنگ ختم کرنے کے طریقوں پر گفتگو ہو گی۔

اس ملاقات میں دونوں صدور کے ساتھ جانے والے وفود اور شخصیات کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ تاہم روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے تصدیق کی کہ روسی اور امریکی وفود کی تشکیل طے کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق اہم اور حساس موضوعات پر بات چیت کے باعث شرکاء کی تعداد محدود رکھی گئی ہے۔

روسی وفد میں وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف، صدر کے معاون یوری اوشاکوف، وزیر دفاع آندرے بیلااوسوف، وزیر خزانہ انتون سیلوانوف اور غیر ملکی سرمایہ کاری و اقتصادی تعاون کے لیے صدر کے خصوصی نمائندے کیریل دیمیتریف شامل ہوں گے۔ اوشاکوف نے بتایا کہ واشنگٹن نے بھی امریکی وفد کے ارکان کا انتخاب کر لیا ہے، تاہم انھوں نے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ اعلان امریکی جانب سے ہی کیا جائے گا۔

روسی سرمایہ کاری فنڈ کے چیف ایگزیکٹو کیریل دیمیتریف
روسی سرمایہ کاری فنڈ کے چیف ایگزیکٹو کیریل دیمیتریف

بات چیت کے دورانیے کے بارے میں اوشاکوف نے کہا کہ یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ صدور کے درمیان بات چیت کس طرح آگے بڑھتی ہے، اور مذاکرات ختم ہوتے ہی روسی وفد روانہ ہو جائے گا۔ ملاقات کے بعد دونوں صدور ایک مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے جو مذاکرات کے ماحول کے بارے میں اشارے دے سکتی ہے۔

روسی وزیر خزانہ انتون سیلوانوف (فائل فوٹو – فرانس پریس)
روسی وزیر خزانہ انتون سیلوانوف (فائل فوٹو – فرانس پریس)

کیریل دیمیتریف، جو پوتین کے قریبی سمجھے جاتے ہیں، انھوں نے گزشتہ دنوں اس ملاقات کی اہمیت اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کی اور سوشل میڈیا پر فعال رہے۔

وہائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ... پوتین کے ساتھ جنگ کو پر امن طریقے سے ختم کرنے کے لیے تمام امکانات آزمانا چاہتے ہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر ان کے پاس کئی دیگر راستے بھی موجود ہیں، جن میں پابندیوں کا عندیہ بھی شامل ہے۔ ٹرمپ اس سے قبل کئی بار کہہ چکے ہیں کہ امن کے لیے یوکرین کو بعض علاقے چھوڑ دینے چاہئیں۔

سرگئی لاؤروف (روئٹرز)
سرگئی لاؤروف (روئٹرز)

ادھر یورپی یونین کے رہنماؤں نے سربراہی اجلاس سے قبل ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ کئیف کے موقف کی حمایت اور اسے مضبوط کریں یا کم از کم اسے سکیورٹی ضمانتیں فراہم کریں۔ فرانسیسی صدر عمانویل میکروں کے مطابق ٹرمپ نے اس پر اتفاق کیا، لیکن یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی منظوری دینے سے انکار کر دیا، جو ہمیشہ ماسکو کے لیے تشویش کا باعث رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں