اسرائیل مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے سے باز آجائے: یورپی یونین

اسرائیلی حکام نے ای ون منصوبے میں پیش رفت کا فیصلہ کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار نے جمعرات کے روز اسرائیل پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے خاص طور پر متنازعہ علاقے میں مکانات کی تعمیر کے منصوبے سے " باز آ جائے" جس کی اسرائیلی وزیرِ خزانہ نے حمایت کی ہے۔

کایا کالاس نے ایک بیان میں کہا، "اسرائیلی حکام کا ای ون سیٹلمنٹ پلان میں پیش رفت کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ دو ریاستی حل کو مزید کمزور کرتا ہے۔ اس فیصلے کے دور رس اثرات کے پیشِ نظر یورپی یونین اسرائیل پر زور دیتی ہے کہ وہ اس فیصلے کو آگے بڑھانے سے باز رہے۔"

اسرائیل کے وزیرِ خزانہ نے جمعرات کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک خاص طور پر متنازعہ علاقے میں 3,400 مکانات کی تعمیر کے منصوبوں کی حمایت کی اور متعدد ممالک کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ارادے کے جواب میں اس علاقے کے الحاق کا مطالبہ کیا۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا کہ علاقے میں اسرائیلی مکانات کی تعمیر سے اسرائیل-فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی امیدیں 'ختم' ہو جائیں گی۔

اسرائیل طویل عرصے سے یروشلم کے مشرق میں ای ون کے نام سے مشہور خصوصی ملکیتی قطعۂ اراضی پر یہودی آبادی تعمیر کرنے کے عزائم رکھتا ہے لیکن بین الاقوامی مخالفت کے باعث یہ منصوبہ کئی عشروں سے منجمد ہے۔

مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے جبکہ ناقدین اور عالمی برادری نے خبردار کیا ہے کہ تقریباً 12 مربع کلومیٹر پر تعمیرات مستقبل کی ایک متصل فلسطینی ریاست کی امیدوں کو کمزور کر دے گی جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

یہ مقام قدیم شہر اور اسرائیلی آبادی معالی ادومیم کے درمیان واقع ہے جو فلسطینی سرزمین کے شمال اور جنوب کو ملانے والے راستوں کے قریب ہے۔ علاقے کو حصار میں لینے کی غرض سے اسرائیل کی سرحدی باڑ کو وسعت دینے کے لیے الگ اور منجمد منصوبے بھی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں