قاہرہ میں فلسطینی دھڑوں کا اجلاس: غزہ میں جنگ بندی اور محاصرہ ختم کرنے پر اتفاق رائے
مصر سے مکمل مفاہمت اور اتحاد کے لیے جامع اجلاس کی درخواست
فلسطینی دھڑوں نے قاہرہ میں منعقدہ اجلاس میں واضح کیا ہے کہ موجودہ مرحلے میں سب سے اہم ترجیح غزہ میں فوری جنگ بندی ہے۔ دھڑوں نے کہا کہ وہ ایسے تمام حل اور تجاویز پر مکمل طور پر آمادہ ہیں جو اسرائیلی فوج کے انخلا اور غزہ کا محاصرہ ختم کرنے سے متعلق ہوں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ موجودہ وقت میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان اور ریلیف فوری اور محفوظ انداز میں غزہ پہنچے اور اس عمل میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اجلاس میں غزہ کی جنگ سے متعلق سیاسی اور زمینی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
العربیہ اور الحدث کے ذرائع کے مطابق فلسطینی دھڑوں نے مصر سے کہا ہے کہ وہ تمام جماعتوں کو ایک جامع اجلاس میں مدعو کرے تاکہ اتحاد اور مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
قاہرہ کی سفارتی کوششیں
مصری ذرائع کے مطابق قاہرہ تمام فریقین سے رابطے تیز کر رہا ہے تاکہ اختلافی نکات ختم کر کے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کا وفد مصری حکام سے مسلسل ملاقاتیں کر رہا ہے۔ انہوں نے امداد کی فراہمی اور جنگ بندی کے لیے مصر کی کوششوں کو سراہا ہے۔
حماس نے بتایا تھا کہ بدھ سے شروع ہونے والے مذاکرات میں جنگ روکنے، امداد پہنچانے اور قومی ہم آہنگی پر بات ہو رہی ہے۔ وفد کی قیادت خلیل الحیہ کر رہے ہیں جو مصری حکام سے غزہ کی جنگ، مغربی کنارے، القدس اور الاقصیٰ کی تازہ صورتحال پر بھی گفتگو کر رہے ہیں۔
حماس کے رہنما طاہر النونو نے کہا کہ مذاکرات میں فلسطینی عوام کی مشکلات ختم کرنے، داخلی مفاہمت اور مصر کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر بھی غور ہو گا۔
ایک مصری سرکاری ذریعے کے مطابق یہ دورہ اس تعطل کے بعد ہو رہا ہے جو کچھ عرصے سے مذاکرات میں پیدا ہو گیا تھا، اور اس کا مقصد بات چیت کو دوبارہ آگے بڑھاتے ہوئے جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنا ہے۔