دوسری عالمی جنگ کے ہیرو جون کروکشانک 105 برس کی عمر میں وفات پا گئے
لندن میں یادگار داستانِ شجاعت کا اختتام
برطانیہ کے سابق فضائی ہیرو جون کروکشانک جنہیں دوسری عالمی جنگ کے آخری زندہ بچ جانے والوں میں شمار کیا جاتا تھا 105 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ شاہی فضائیہ نے ہفتے کے روز ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا انتقال ایک ہفتہ قبل ہوا۔
نروے کے ساحل پر تاریخی معرکہ
یہ کہانی جولائی 1944ء کی ہے، جب نوجوان پائلٹ لیفٹیننٹ جون کروکشانک برطانوی شاہی فضائیہ کی ایک پرواز میں گشت پر تھے۔ نروے کے سمندر پر ایک جرمن آبدوز ان کی نظر میں آئی۔ طیارہ صرف پچاس فٹ کی بلندی پر جھپٹا اور فائرنگ کی، مگر گہرائی بم کام نہ آئے۔ دوسری بار وار کرنے کی کوشش میں آبدوز کا گولہ طیارے سے ٹکرایا۔ بمبار کے کمانڈر جاں بحق ہوگئے جبکہ کروکشانک شدید زخمی ہوئے، لیکن انہوں نے اپنے زخم چھپائے اور خود بم گرا کر آبدوز کو غرق کردیا۔
ان پر 72 زخم آئے رفقائے کار نے انہیں اسٹریچر پر ڈال کر پانچ گھنٹے کی رات بھر پرواز کے بعد برطانیہ واپس پہنچایا۔ دورانِ سفر انہوں نے مورفین کے انجیکشن لینے سے بھی انکار کیا تاکہ دماغ بیدار رکھ سکیں، کیونکہ ان کے معاون پائلٹ کو اکیلے طیارہ اتارنے کا تجربہ نہیں تھا۔
صبر و حوصلے کی انتہا
بیہوشی کی کیفیت میں بھی انہوں نے اصرار کیا کہ انہیں کاک پٹ میں بٹھایا جائے۔ گھپ اندھیری رات میں اپنے ساتھی کو ایک گھنٹے تک پرواز جاری رکھنے کا حکم دیا تاکہ روشنی میں طیارہ بحفاظت پانی پر اتارا جا سکے۔ ڈاکٹروں نے فوری طور پر انہیں خون چڑھایا اور ہسپتال منتقل کیا۔
اعلیٰ ترین اعزاز
اس شجاعت پر 24 برس کی عمر میں انہیں برطانیہ اور دولتِ مشترکہ کا سب سے بڑا فوجی اعزاز "وکٹوریہ کراس" دیا گیا۔ ایوارڈ میں کہا گیا کہ انہوں نے "حوصلہ، ثابت قدمی اور فرض شناسی کی بے مثال مثال قائم کی۔"
جنگ کے بعد کی زندگی
جون کروکشانک اسکاٹ لینڈ کے شہر ابرڈین میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں جنگ کے بعد بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ 1985ء میں ریٹائر ہوئے۔ ان کی اہلیہ میریون بیورلی کا اسی سال انتقال ہوگیا، دونوں کی کوئی اولاد نہ تھی۔ جنگی زخموں کے باعث وہ دوبارہ فوجی پرواز نہ کرسکے۔
2004ء میں جب ملکہ الزبتھ دوم نے برطانوی فضائیہ کی یادگار کا افتتاح کیا تو کروکشانک بھی موجود تھے۔ انہوں نے ملکہ سے کہا کہ انہیں کبھی اعزازات کا خیال تک نہ آیا۔
1939ء میں فوج میں شمولیت اختیار کرنے والے یہ بہادر سپاہی اپنی زندگی کے آخری دن تک خاموشی اور وقار کے ساتھ جیتے رہے۔ اب 105 برس کی عمر میں ان کا سفر تمام ہوا، مگر ان کی شجاعت کی داستان تاریخ میں ہمیشہ روشن رہے گی۔
-
اسرائیلی ریاست : دور مار فضائی جنگ کے لیے ' ری فیولنگ سسٹم' میں اضافہ کرے گی
اسرائیل نے اپنی جارحانہ فضائی جنگی صلاحیت کو دور مار بنانے کے لیے 500 ملین ڈالر ...
مشرق وسطی -
انتونیو گوتریس کی غزہ میں فوری جنگ بندی کی اپیل
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی ...
بين الاقوامى -
اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد ایرانی بحریہ نے پہلی فوجی مشقیں شروع کردیں
دشمن سمجھ چکے خطے میں کسی بھی مہم جوئی کو سخت ردعمل کا سامنا ہوگا: ایرانی وزیر ...
بين الاقوامى