اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر پر قبضے کی تیاری کے ابتدائی مرحلے کے آغاز کے بعد مصری ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب نے تاحال ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کا جواب نہیں دیا، حالانکہ اسے حماس کا ردعمل ملے ہوئے 48 گھنٹے گزر چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق قاہرہ نے بدھ کے روز تمام فریقین کے ساتھ رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ اسرائیل کو اس بات پر آمادہ کیا جا سکے کہ وہ ثالثوں کی تجویز کے ساتھ مثبت رویہ اپنائے اور غزہ میں جنگ بندی کی راہ ہموار کرے۔
حماس کا مثبت جواب
اس سے قبل قطر کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ حماس نے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے جو جواب دیا ہے وہ "انتہائی مثبت" ہے اور بڑی حد تک اس تجویز سے مطابقت رکھتا ہے جسے اسرائیل نے پہلے امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کے کاغذ پر تسلیم کیا تھا۔
تاہم ایک اسرائیلی حکومتی ذریعے کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اس تجویز کو مسترد کرنے کے حق میں ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تمام اسرائیلی قیدی ایک ہی بار رہا کیے جائیں، جبکہ پیش کردہ تجویز کے مطابق یہ رہائی دو مرحلوں میں 60 روزہ جنگ بندی کے دوران ہونی تھی۔
اسرائیل کی تیاری اور فوجی بھرتی
اسرائیلی فوج نے مزید 60 ہزار ریزرو فوجی طلب کر لیے ہیں جبکہ 20 ہزار اہلکاروں کی سروس میں توسیع کی گئی ہے۔ وزیر دفاع یسرائیل کاٹز پہلے ہی غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دے چکے ہیں۔ فی الحال اسرائیلی فوج غزہ کے تقریباً 75 فیصد حصے پر قابض ہے، جو تباہی کے مناظر پیش کر رہا ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ شہر اور قریبی مہاجر کیمپوں پر کنٹرول کے لیے آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد حماس کو شکست دینا اور 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے قیدیوں کو آزاد کرانا ہے۔
گذشتہ ہفتے کے اختتام پر بنجمن نیتن یاھو نے اس نئی منصوبہ بندی کی توثیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ سکیورٹی کابینہ کی منظوری کے بعد غزہ شہر پر کنٹرول کی کارروائی مزید تیز کی جائے گی۔