کوپن ہیگن میں ہزاروں افراد کا فلسطینی حامی احتجاجی مظاہرہ

جنگ "بہت آگے" نکل گئی ہے: وزیر اعظم فریڈرکسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کوپن ہیگن میں اتوار کے روز 10,000 سے زائد افراد نے فلسطینی حامی مظاہرے میں حصہ لیا جس میں غزہ جنگ کے خاتمے اور ڈنمارک سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

آکسفیم، گرین پیس اور ایمنسٹی سمیت تقریباً 100 تنظیموں کے ساتھ ساتھ یونینز، سیاسی جماعتوں، فنکار جماعتوں اور انسانی حقوق کے کارکنان بشمول گریٹا تھنبرگ نے مارچ میں حصہ لیا۔

ڈنمارک کے کوپن ہیگن میں 24 اگست 2025 کو غزہ کے فلسطینیوں کی حمایت میں "آزاد فلسطین کے لیے پورا ڈنمارک سڑکوں پر" کے نام سے ایک مظاہرے میں شرکت کے دوران ایک بچی فلسطینی پرچم تھامے ہوئے ہے۔ (رائٹرز)
ڈنمارک کے کوپن ہیگن میں 24 اگست 2025 کو غزہ کے فلسطینیوں کی حمایت میں "آزاد فلسطین کے لیے پورا ڈنمارک سڑکوں پر" کے نام سے ایک مظاہرے میں شرکت کے دوران ایک بچی فلسطینی پرچم تھامے ہوئے ہے۔ (رائٹرز)

پولیس نے مظاہرین کی تعداد کا تخمینہ فراہم نہیں کیا۔

ڈنمارک کی پارلیمنٹ کے باہر دھوپ میں جمع شدہ مظاہرین - جن میں چھوٹے بچوں کے ساتھ کئی خاندان بھی تھے - نے پرچم لہرائے اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ انہوں نے "اسلحے کی فروخت بند کرو"، "آزاد فلسطین" اور "ڈنمارک کا نسل کشی سے انکار" کے نعرے لگائے۔

اسرائیل کے روایتی حامی ڈنمارک نے کہا ہے کہ وہ غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے یورپی یونین کی موجودہ صدارت کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے بارے میں وزیرِ اعظم میٹے فریڈریکسن نے حال ہی میں کہا تھا کہ جنگ "بہت آگے" نکل گئی ہے۔

لیکن ڈنمارک نے کہا ہے کہ اس کا مستقبل قریب میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

مظاہرے میں شریک تینسالیس سالہ مشیل ایپلروس نے اے ایف پی کو بتایا، "جو لوگ اقتدار میں ہیں وہ نسل کشی کو نہیں روک رہے اس لیے یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ باہر نکلیں، احتجاج کریں اور تمام رہنماؤں کو بتا دیں کہ ہم اس سے متفق نہیں ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں