برطانوی وزارت داخلہ نے غزہ کے جنگ زدہ درجنوں سٹوڈنٹس کو برطانیہ میں امیگریشن دینے سے اتفاق کیا ہے تاکہ وہ برطانیہ کی طرف سے مکمل تعلیمی سکالرشپ کی بنیاد پر تعلیم حاصل کر سکیں۔
ان سکالرشپس کی بنیاد پر غزہ سے تعلق رکھنے والے سٹوڈنٹس کو اگلے ماہ سے یہ سہولت میسر آسکے گی۔
تاہم یہ لازمی ہوگا کہ غزہ سے تعلق رکھنے والے ان سٹوڈنٹس کو برطانیہ پہنچنے سے پہلے بائیو میٹرک کے مختلف معائنوں سے گزرنا پڑے گا۔
نیز یہ کہ ان سٹوڈنٹس میں سے ہر ایک کو برطانیہ میں یہ سہولت ملنے کے لیے اسرائیلی ریاست کا اتفاق بھی ضروری ہو گا کہ انہیں ان سٹوڈنٹس میں سے کسی پر اعتراضں نہیں ہے۔
یاد رہے برطانیہ کے وزیر اعظم کیر سٹارمر نے پچھلے ماہ یہ اعلان کیا تھا کہ اگر اسرائیلی ریاست نے لازمی اقدمات نہ لیے، بشمول جنگ بندی سے اتفاق نہ کیا تو برطانیہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔
بی بی سی کے مطابق برطانیہ ان تعلیمی سکالرشپس کی بنیاد پر پڑھنے کی سہولت پانے کے لیے چالیس کے قریب منتخب کردہ فلسطینی سٹوڈنٹس میں سے 9 کو شیوننگ سکیم کے تحت سکالرشپ دے گا۔
برطانوی فنڈنگ کی بنیاد پر ذہین سٹوڈنٹس کو دنیا بھر سے نمایاں طلبہ کو برطانیہ سکالر شپ کے ساتھ یہ ایک سال کی ماسٹر ڈگری کے لیے پیش کرتا ہے۔
وزیر داخلہ برطانیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ مزید 30 سٹوڈنٹس کی مدد کے لیے منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی ہے تاکہ نجی سکیموں کے تحت سکالر شپ حاصل کرنے والے یہ افراد برطانیہ پہنچ سکیں۔
برطانوی میڈیا میں یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ اگرچہ یہ ایک چیلنجنگ کا معاملہ ہے مگر وزیر داخلہ کوپر چاہتے ہیں کہ اسے اگلے چند ہفتوں کے دوران غزہ کے فلسطینی سٹوڈنٹس کے لیے ممکن بنا لیا جائے۔