شام اور اسرائیل کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں : آذربائیجانی صدر

الہام علیوف نے کہا کہ شامی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ایک ملاقات آذربائیجانی ثالثی میں ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل اور شام کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہے۔

علیوف نے بدھ کو "العربیہ انگلش" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ آذربائیجان کی وساطت سے شامی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ملاقات ہوئی، تاہم انھوں نے ملاقات کا مقام نہیں بتایا۔ بعض میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ ملاقات دار الحکومت باکو میں منعقد ہوئی۔ صدر نے واضح کیا کہ ان کے ملک کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

اگست کے دوران اسرائیلی فوج نے چار بار شام کے جنوب مغربی صوبے قنیطرہ میں دراندازی کی۔ دسمبر 2024 کے اواخر میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور دمشق میں اپوزیشن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اسرائیلی فوج بارہا شام میں داخل ہوئی اور فضائی حملے کیے جن میں عام شہری مارے گئے جبکہ شامی فوج کی تنصیبات، ہتھیار اور گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ اسرائیل 1967 سے شامی علاقے جولان کی زیادہ تر زمین پر قابض ہے اور 2024 کے اواخر میں نظام کی تبدیلی کے بعد اس نے اپنی گرفت مزید وسیع کی۔

صدر علیوف نے ترکیہ اور اسرائیل کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا "ماضی میں ہم نے دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر لانے کی حمایت کی تھی اور فریقین نے ہماری کوششوں کو سراہا۔ آج بھی اگر ہم سے کہا گیا تو ہم انقرہ اور تل ابیب کے تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔"

انھوں نے مزید کہا کہ آذربائیجان شام کو انسانی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق آذری گیس شام تک ایک چار فریقی معاہدے کے تحت پہنچ رہی ہے، جو 12 جولائی کو آذربائیجان، ترکی، شام اور قطر کے درمیان طے پایا۔ معاہدے کے مطابق فی الحال 1.2 ارب مکعب میٹر گیس فراہم کی جا رہی ہے، جسے مستقبل میں بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔

رواں سال12 جولائی کو ہی شام اور آذربائیجان نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس میں توانائی اور قدرتی گیس کی فراہمی میں تعاون شامل ہے۔ اس کے بعد 2 اگست کو اس منصوبے کا پہلا مرحلہ شروع ہوا جس کے تحت آذربائیجان سے قطر کی مالی معاونت کے ساتھ ترکی کے راستے شام کو روزانہ تقریباً 34 لاکھ مکعب میٹر گیس فراہم کی جا رہی ہے، جو گیس پر چلنے والے بجلی گھروں میں استعمال ہو رہی ہے۔

آخر میں علیوف نے کہا کہ ان کے امریکی ہم منصب "نوبل امن انعام کے مستحق ہیں"۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ "ایسے رہنما ہیں جو امن چاہتے ہیں اور قفقاز، افریقا اور ایشیا میں اس کا مثبت کردار ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں