اسرائیلی ریاست کی پڑوسی ملک شام پر پھر بمباری سے ایک ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی ریاست نے اپنے گردوپیش میں اپنی فوجی بالادستی کے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے منگل کے روز ایک بار پھر شام میں بمباری کی ہے۔ شامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ریاست کی فوج کے شام میں اندر دورز کی گئی مداخلت اور یکطرفہ پیش قدمی کے بعد یہ پہلی بمباری ہے۔ جس کے نتیجے میں ایک ہلاکت بھی ہوئی ہے۔

اسرائیلی ریاست کی شام پر جہ چڑھائی ان مذاکرات کے بعد ہوئی ہے کو جن کے پچھلے چند ہفتوں کے دوران ایک سے زائد دور ہو چکے ہیں۔ منگل کے روز اسرائیلی فوج نے شام کے جنوبی علاقےمیں بمباری کی۔ جس سے ایک شہری ہلاک ہوگیا۔ یہ نوجوان شہری تارانجا نامی گاؤں میں اپنے گھر میں موجود تھا۔ یہ گاؤں گولان کی پہاڑیوں کی نزدیک ہے ۔ ان گولان کی پہاڑیوں سے متصل اسرائیلی فوج پہلےںہی شامی سرحدہ علاقے پر آٹھ دسمبر کے بعد سے موجود ہے۔

آٹھ دسمبر کو بشارالاسد رجیم کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے اب تک اسرائیلی ریاست سینکڑوں بار شام کے اندر مختلف مقامات پر بمباری کی ہے۔ بشارالاسد کی حکومت کے دور میں بھی اسرائیلی بمباری کے واقعات ہوتے رہتے تھے مگر حالیہ آٹھ نو ماہ کے دوران اسرائیلی ریاست کو زیادہ سہولت سے بمباری کا موقع ملا ہے۔

پیر کے روز شامی وزارت خارجہ نے بیت جن کے قریبی علاقے میں اسرائیلی فوجی مداخلت کی مذمت کی تھی۔

وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں کہا اسرائیلی ریاست کی 11 فوجی گاڑیوں اور تقریباً 60 فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ شامی علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔ اس فوجی دستے نے کوہ ہرمون کے دامن میں واقع ایک سٹریٹجک اہمیت کی حامل پہاڑی پر قبضہ کر لیا ہے۔

شام کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی ریاست کی دراندازی کو شام کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور مذمت کی۔

اسرائیلی فوج نے شام کے اندر گھس کر کی گئی اپنی کارروائی کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اس نے کچھ مشکوک افراد کے خلاف پچھلے ہفتے میں کئی کارروائیاں کی ہیں ۔ تاکہ اسلحہ کی تلاش اور پکڑ ممکن بنا سکے۔

یاد رہے اسرائیلی ریاست اور اس کی فوج جس بھی ملک کی سرحدی خلاف ورزہ کرتی ہے عام طور اپنے شبہے کو ہی جواز کے طور پر پیش کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں