غزہ شہر پر اسرائیل کا قبضہ ایک جان لیوا جارحیت ہو گی : گوتریس
گوتریس نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں غزہ میں ہلاکتوں اور تباہی کی سطح کی مثال نہیں ملتی
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ شہر پر قبضے سے گریز کرے، کیونکہ انسانی تباہی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
گوتریس نے جمعرات کو "ایکس" پر ایک پوسٹ میں کہا "غزہ کے عام شہری ایک اور جان لیوا جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں، اور اسرائیل کے غزہ پر قبضے کے اعلان سے ایک نیا اور خطرناک مرحلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔"
انھوں نے مزید کہا "لاکھوں شہری دوبارہ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے، جس سے خاندانوں کو مزید شدید خطرات کا سامنا ہو گا، یہ فوری طور پر رکنا چاہیے۔ اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔"
گوتریس نے بتایا کہ "حالیہ دنوں میں غزہ میں ہلاکتوں اور تباہی کی سطح کی مثال نہیں ملتی"۔
Civilians in Gaza are facing yet another deadly escalation.
— António Guterres (@antonioguterres) August 28, 2025
Israel’s announcement of its intention to occupy Gaza City signals a new and dangerous phase.
Hundreds of thousands of civilians would be forced to flee yet again, plunging families into even deeper peril.
This must…
غزہ ملبے اور لاشوں سے بھرا ہوا
انھوں نے مزید کہا "غزہ ملبے، لاشوں اور بین الاقوامی قانون کی ممکنہ سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد سے بھرا ہوا ہے۔"
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے زور دیا کہ فوری اور مستقل جنگ بندی ضروری ہے، قیدیوں کو فوراً رہا کیا جائے اور جو ظلم و ستم ان پر کیا گیا اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔
انھوں نے اسرائیل پر واضح ذمے داریوں کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں خوراک، پانی، دوائیں اور دیگر ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، زیادہ انسانی رسائی کی سہولت دی جائے اور شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کی جائے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ غزہ شہر پر قابو پائے، جہاں اندازاً دس لاکھ لوگ رہتے ہیں۔
علاقے کو خالی کرایا جانا
بدھ کو اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ شہر کے باشندگان کو منتقل کرنے کی تیاری جاری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انسانی امداد کے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں اور خیمے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
لیکن امدادی تنظیمیں جنوب میں ساحلی علاقے کی تباہ کن صورت حال کے بارے میں بار بار خبردار کرتی رہی ہیں۔
غزہ کی جنگ میں 60 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں جنھیں اقوام متحدہ معتبر مانتی ہے۔
یہ تنازع 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر اچانک حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔