ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے یورپی ٹرائیکا ممالک فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی طرف سے اپنے ملک پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے میکانزم کو فعال کرنے کی اہمیت کو کم کر دیا۔ نیوز ایجنسی "فارس" کے مطابق انہوں نے آج ہفتے کو جنوبی ایران کے شہر شیراز میں صدرہ کے علاقے کے باشندوں سے ملاقات کے دوران کہا "ٹرگر میکانزم کا مساواتوں پر کوئی اثر نہیں ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ یورپ جو خود امریکہ سے وابستہ ہے، اس کے پاس اپنے معاملات کی حمایت کرنے کی زیادہ صلاحیت نہیں ہے اور سنیپ بیک کا بھی پابندیوں پر کوئی اثر نہیں ہے۔
پابندیاں اصلا ختم نہیں کی گئیں
انہوں نے کہا کہ مغربی طاقتوں نے جوہری معاہدے کے تحت وسیع پابندیاں عائد کی تھیں اور انہوں نے اپنے وعدوں کے باوجود ان میں سے کسی کو بھی ختم نہیں کیا۔ اس طرح سنیپ بیک میکانزم کی تاثیر اور اثر کم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ اس فیصلے کے ذریعے اپنے لیے ایک نئی جگہ اور کردار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن امریکیوں نے اسے نظر انداز کر دیا ہے۔
یاد رہے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کل پابندیوں کے نقصان اور ان کے ملک پر اثرات کے بارے میں بات کی تھی اگرچہ انہوں نے زور دیا کہ وہ اندرونی تقسیم سے کم نقصان دہ ہیں۔ جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقجی نے خبردار کیا کہ یورپی فیصلے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون رک سکتا ہے۔
یہ بات اس وقت سامنے آئی جب یورپی ٹرائیکا نے بدھ کو 2015 کے ایرانی جوہری پروگرام کے معاہدے کے تحت "ٹرگر میکانزم" کے نام سے مشہور میکانزم کو فعال کیا جو تہران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کو دوبارہ عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
-
پابندیوں کے باعث انتقامی کارروائی کا خوف: جرمنی کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑ دینے کی ہدایت
اقوامِ متحدہ کی ممکنہ پابندیوں میں جرمنی کا بھی کردار ہے
مشرق وسطی -
ایران نے یورپی ٹرائیکا سے غیر مشروط مہلت کا مطالبہ کردیا
ہم دھمکی یا جبر کے تحت مذاکرات نہیں کریں گے: اقوام متحدہ میں تہران کے سفیر کا بیان
مشرق وسطی -
ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اسرائیل، امریکہ ایران کو 'تقسیم، تباہ' کرنا چاہتے ہیں: پزشکیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعہ کے روز کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر ...
مشرق وسطی