افغانستان سے ہول ناک مناظر ... مشرقی علاقے میں دوسرا زلزلہ

زلزلے نے 1400 سے زائد افراد کی جان لے لی اور 3000 سے زیادہ زخمی ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

افغانستان کے مشرقی صوبوں ننگرہار، کنڑ اور لغمان میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب آنے والے 6.0 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ آج منگل کو ایک اور زلزلہ جنوب مشرقی حصے میں آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 تھی۔ دوسرے زلزلے سے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

زلزلے کے بعد کئی دیہات ملبے میں تبدیل ہوگئے، کچے اور لکڑی کے گھر ڈھہ گئے، تنگ گلیاں مٹی کے ڈھیر میں دب گئیں۔ فضائی مناظر میں دکھایا گیا کہ پورے کے پورے گاؤں زمین بوس ہو گئے اور متاثرہ خاندان عارضی خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 1400 سے زائد افراد جاں بحق اور 3000 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، تاہم حکام کو خدشہ ہے کہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی انتباہ جاری کیا ہے کہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں جاری امدادی کارروائیوں کے باعث ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

زلزلے کا مرکز جلال آباد سے 27 کلو میٹر دور اور محض 8 کلومیٹر گہرائی میں تھا، جس سے تباہی کی شدت بڑھ گئی۔ تودے گرنے کے سبب امدادی ٹیموں کو کئی دیہات تک پہنچنے میں دشواری پیش آئی۔ مقامی آبادی بیلچے اور ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہے۔

کنڑ میں آفات سے نمٹنے والی انتظامیہ کے سربراہ نے بتایا کہ ترجیح زخمیوں کی مدد اور متاثرین کے لیے خیمے اور گرم کھانے فراہم کرنا ہے۔ فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی کارروائیاں اور متاثرین کا انخلا جاری ہے۔

اقوام متحدہ نے متاثرہ علاقوں کے لیے 50 لاکھ ڈالر جاری کیے ہیں، جبکہ برطانیہ نے دس لاکھ پاؤنڈ امداد دینے کا اعلان کیا۔

افغانستان دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور چار دہائیوں کی جنگ نے اس کی حالت مزید کمزور کر دی ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد غیر ملکی امداد میں کمی نے صورت حال کو اور بھی نازک بنا دیا۔ ملک ہندوکش پہاڑی سلسلے میں واقع ہونے کے باعث اکثر زلزلوں کی زد میں رہتا ہے، جو دنیا میں زلزلوں کی 15 فی صد سرگرمیوں کا مرکز ہے۔

گزشتہ برس اکتوبر میں ہرات میں 6.3 شدت کے زلزلے نے 1500 سے زائد افراد کی جان لی ۔ اس دوران 63 ہزار سے زیادہ گھروں کے ساتھ ساتھ سیکڑوں اسکول اور تعلیمی مراکز تباہ ہو گئے تھے۔ یہ 25 برسوں کے دوران افغانستان میں آنے والا بدترین زلزلہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں