افغانستان میں شدید زلزلہ: کئی گائوں صفحہ ہستی سے مٹ گئے، سینکڑوں ہلاکتیں

ریکٹر سکیل پر شدت چھ اور مرکز جلال آباد شہر میں آٹھ کلو میٹر زیر زمین تھا، زخمی اسپتالوں میں منتقل، اموات میں اضافے کا خدشہ، متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

افغانستان کے صوبہ کنڑ میں شدید زلزلے نے تباہی مچا دی، 800 افراد جاں بحق اور 500 زخمی ہو گئے، کئی گائوں صفحہ ہستی سے مٹ گئے، صوبہ ننگرہار اور لغمان میں بھی جانی نقصان ہوا۔

افغان میڈیا کے مطابق صوبہ کنڑ میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے حکام نے بتایا ہے کہ آنے والے زلزلے میں اب تک تقریبا 800 افراد جاں بحق اور 500 زخمی ہوئے ہیں، یہ اموات نورگل، سواکئی، واٹاپور، منوگی اور چپہ درہ اضلاع میں رپورٹ ہوئیں۔

امریکا کے جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6 اور مرکز جلال آباد شہر میں آٹھ کلو میٹر زیر زمین تھا، زلزلے کے بعد 4.5، 5.2، 5.2، 4.7 اور 4.3 شدت کے 5 مزید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

حکام نے بتایا کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی یہ تعداد حتمی نہیں، کیونکہ دور دراز علاقوں کے مکینوں سے رابطے کا سلسلہ ابھی جاری ہے، ان اضلاع میں امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

زلزلے کے نتیجے میں ضلع نورگل کے کئی گائوں مٹی تلے دب گئے ہیں اور خدشہ ہے کہ سیکڑوں مزید لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں، متاثرہ علاقوں کے رہائشی عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ زخمیوں اور جاں بحق افراد کو نکالنے میں ان کی مدد کی جائے۔

وزارتِ دفاع، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ صحت کی ریسکیو ٹیمیں علاقے میں پہنچ گئیں جبکہ زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ننگرہار ریجنل اسپتال منتقل کیا گیا۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ یہ تباہ کن زلزلہ جانی و مالی نقصانات کا سبب بنا، مقامی حکام اور طالبان کی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی مدد کے لیے سرگرم ہیں،حکام عوام کو بچانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔

کنڑ کے علاوہ ننگرہار اور لغمان میں بھی جانی نقصان ہوا جبکہ زلزلے کے جھٹکے کابل اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

وزارت صحت نے ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صرف ایک گائوں میں 30 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، تاہم حکام نے کہا کہ بکھری ہوئی بستیوں والے اس علاقے سے درست اعداد و شمار جمع کرنا ابھی باقی ہے، جو زلزلوں اور سیلابوں کی طویل تاریخ رکھتا ہے۔

وزارتِ صحت کے ترجمان شرفات زمان نے ایک بیان میں کہا کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے، لیکن چونکہ علاقے تک پہنچنا دشوار ہے، اس لیے ہماری ٹیمیں اب بھی موقع پر موجود ہیں۔

صوبائی اطلاعاتی سربراہ نجیب اللہ حنیف کے مطابق سیکڑوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا اور جیسے جیسے دور دراز علاقوں سے، جہاں سڑکیں بہت کم ہیں، مزید اطلاعات آ رہی ہیں، اعداد و شمار بڑھنے کا امکان ہے۔

افغانستان زلزلوں سے شدید متاثر ہونے والا ملک ہے، خاص طور پر ہندوکش پہاڑی سلسلے میں، جہاں بھارتی اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹیں ملتی ہیں، گذشتہ سال ملک کے مغربی حصے میں آنے والے زلزلوں میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں