غزہ شہر پر مکمل قبضے کے حوالے سے اسرائیلی فوج کی جانب سے مخالفت اور اس کے مضمرات اور خطرات سے خبردار کیے جانے اور ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ تنقیدوں کے باوجود ... اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اپنی منصوبہ بندی پر قائم ہیں۔
آج منگل کے روز "اسرائیلی فوجی ریڈیو" نے بتایا کہ 60 ہزار اسرائیلی اضافی فوجیوں کو غزہ شہر پر کارروائی کی تیاری کے لیے طلب کیا گیا۔ ان میں سے 40 ہزار فوجی اپنی یونٹوں اور اڈوں میں پہنچیں گے، جن میں نصف براہِ راست محاذ پر تعینات ہوں گے تاکہ باقاعدہ فوج کی جگہ لے سکیں، جبکہ باقی آدھے فوجی کمانڈ، انٹیلی جنس اور فضائیہ کے شعبوں میں خدمات انجام دیں گے۔
جزوی معاہدے کی تجویز
فوجی ذرائع کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی اور سیاسی قیادت کے درمیان بڑھتا ہوا عدم اعتماد فوج کی صفوں تک سرایت کر رہا ہے۔ چیف آف اسٹاف ایال زامیر، موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیع اور شاباک کے قائم مقام سربراہ نے غزہ میں ایک جزوی معاہدے کی حمایت کی ہے تاکہ وہاں قید اسرائیلی قیدیوں کی جان بچائی جا سکے۔ انھوں نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ حماس کی منظور کردہ اس پیشکش کو قبول کریں جس کے تحت 6 دن کی جنگ بندی کے بدلے 10 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جانا ہے، اس کے بعد مزید 10 قیدیوں کو فلسطینی قیدیوں اور بعض ہلاک شدہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کے تبادلے کے ساتھ رہا کیا جائے گا۔ یہ بات روزنامہ "ہآرتز" نے بتائی۔
تاہم نیتن یاہو غزہ پر قبضے کی اپنی حکمتِ عملی پر ڈٹے ہوئے ہیں، جسے اسرائیلی کابینہ نے گزشتہ ماہ کے آغاز میں زیرِبحث لانے کے بعد منظور کیا اور پھر 15 اگست کو وزیرِ دفاع یسرائیل کاتز نے با ضابطہ طور پر منظور کر لیا۔
اسرائیل کے کئی شہریوں نے سپریم کورٹ میں یہ قبضہ روکنے کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ اس حوالے سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ فوج کی رائے کے بر خلاف لیا گیا ہے۔ یہ بات اسرائیلی ویب سائٹ "ویلا" نے بتائی۔
دوسری جانب مغربی اور عرب ممالک کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی امدادی اور اقوامِ متحدہ کی تنظیموں نے غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینیوں کے پاس کوئی محفوظ پناہ گاہ نہ ہونے کے باعث اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔
اقوامِ متحدہ نے 22 اگست کو با ضابطہ طور پر غزہ میں قحط کا اعلان کیا، جہاں تقریباً پانچ لاکھ افراد محصور علاقے میں "الم ناک" حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ جاری رہنے سے اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق "اسرائیل شاید جنگ جیت جائے لیکن اپنی بین الاقوامی سفارتی پوزیشن کھو بیٹھے گا"۔ حالانکہ اس سے قبل وہ متعدد بار تل ابیب کی اس جنگ میں حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔