غزہ جنگ پر ناروے کے دولت فنڈ کا کیٹرپلر سے انخلاء: امریکہ 'بہت پریشان'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کے روز کہا کہ وہ ناروے کے خودمختار دولت فنڈ کی طرف سے تعمیراتی سازوسامان کے امریکی گروپ کیٹرپلر سے مالی اور کاروباری روابط منقطع کرنے پر "بہت پریشان" ہے اور اس معاملے پر ناروے کی حکومت کے ساتھ بات کر رہی ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے اور ناروے کے دو ٹریلین ڈالر کے دولت فنڈ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس نے اخلاقی معیارات کی بنیاد پر کیٹرپلر سے علیحدگی اختیار کی۔ یہ معیارات غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی حکام کے کمپنی کی مصنوعات کے استعمال پر عائد کیے گئے۔

فنڈ کے اخلاقی نگراں ادارے نے کہا کہ اس کے جائزے کے مطابق کیٹرپلر کی مصنوعات مثلاً بلڈوزر کو اسرائیلی حکام "بین الاقوامی انسانی قانون کی وسیع اور منظم خلاف ورزیوں" جیسا کہ "فلسطینی املاک کی وسیع پیمانے پر غیر قانونی تباہی" کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

نگراں ادارے نے کہا کہ کیٹرپلر نے "اس طرح کے استعمال کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں۔"

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا، "ہم ناروے کے خودمختار دولت فنڈ کے فیصلے سے بہت پریشان ہیں جو بظاہر کیٹرپلر اور اسرائیلی حکومت کے خلاف ناجائز دعووں پر مبنی ہے۔ ہم اس معاملے پر ناروے کی حکومت سے براہِ راست بات کر رہے ہیں۔"

ٹرمپ کے اتحادی اور ریپبلکن امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے تجویز دی ہے کہ واشنگٹن کو جوابی کارروائی کے طور پر ٹیرف اور ویزے کی منسوخی عائد کرنی چاہیے۔

’یہ سیاسی فیصلہ نہیں‘

ناروے میں وزیرِ خزانہ جینز سٹولٹن برگ نے کہا کہ وزارتِ خزانہ، مرکزی بینک اور فنڈ کے اخلاقی نگران ادارے کے درمیان عہدوں کی ایک تقسیم ہے جو ایسی کمپنیوں سے علیحدگی کی سفارشات کرتی ہے جو پارلیمان کے متفقہ اخلاقی رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کریں۔

"حکومت انفرادی کمپنیوں کا جائزہ نہیں لیتی۔ کمپنیوں کے اخراج کا فیصلہ ایک آزاد فیصلہ ہے جو Norges Bank کے ایگزیکٹو بورڈ نے طے شدہ فریم ورک کے مطابق کیا ہے۔ یہ کوئی سیاسی فیصلہ نہیں ہے۔" سٹولٹن برگ نے رائٹرز کو ایک ای میل بیان میں کہا۔

سٹولٹن برگ نے یہ بھی کہا کہ وہ منگل کو امریکی صدر ٹرمپ کے اقتصادی مشیر کیون ہیسٹ سے رابطے میں تھے۔

انہوں نے کہا، "ہم نے تجارت اور محصولات، روس کے خلاف اقتصادی پابندیوں اور یوکرین کی حمایت پر تبادلۂ خیال کیا۔ پینشن فنڈ بحث کا موضوع نہیں تھا۔"

فنڈ کے منتظم نورجز بینک انویسٹمنٹ مینجمنٹ جو مرکزی بینک کی ایک اکائی ہے، نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اور سوالات وزارتِ خزانہ کو بھیج دیئے۔

وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

فرمز کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر احتجاج کا سامنا ہے کیونکہ غزہ میں اسرائیل کے فوجی حملے سے انسانی بحران کئی گنا زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں