خاتون کی شہرت کو نقصان پہنچانے پر ٹرمپ پر عائد 83.3 ملین ڈالر ہرجانے کی سزا برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے پیر کے روز صدر ٹرمپ کے خلاف الزامات می بنیاد 83.3.ملین ڈالر کا ہرجانہ برقرار رکھا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق ٹرمپ کو 'ای جین کیرول' کو لازمآ یہ رقم ادا کرنی ہوگی ۔ کیونکہ انہوں نے اس خاتون کالم نگار کے بارے میں سوشل میڈیا پر کیچڑ اچھالا اور بیانات دیے۔ اس خاتون نے صدرٹرمپ پر ہراسگی و مجرمانہ نیت سے حملہ کیا کیا تھا۔ وفاقی عدالت نے پیر کے روز اس سلسلے میں ہرجانہ کی ادائیگی کا حکم برقرار رکھا ہے۔

امریکہ کی دوسری سرکٹ کورٹ آف اپیل نے اس ہرجانہ کے خلاف صدر ٹرمپ کی اپیل رد کر دی ہے۔ اور کہا ہے شہرت کو نقصان پہنچانے کے الزام میں عدالت کی طرف سے دی گئی سزا جائز اور مناسب ہے۔

تین ججوں پر مشتمل اپیل سننے والے اس پینل نے کہا ضلعی عدالت کے ریکارڈ مقدمہ سے اس عزم کی تائید ہوتی ہے کہ ٹرمپ کے طرز عمل کے خلاف ڈگری قابل ذکر حد تک زیادہ تھی۔

تاہم تین ججوں کے اپیل پینل کے مطابق کیرول کو ان بیانات کے نتیجے میں مسلسل اور زبردست ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس دوران کیرول کو موت کی دھمکیاں دی گئیںں اور جسمانی طور پر نقصان پہنچانے سمیت خطرات کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی شامل رہیں۔

خیال رہے عدالت میں ٹرمپ کی طرف سے یہ استدلال اختیار کیا گیا تھا کہ ہرجانے کی رقم غیر معقول اور حد سے زیادہ ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے خاص طور پر 65 ملین ڈالر کے ہرجانہ کے معاملے کو سپریم کورٹ کی طرف سے دیے گئے صدارتی استثنیٰ کی روشنی میں نئے سرے سے دیکھنے پر زور دیا تھا۔ لیکن اپیل کورٹ نے ان دلائل کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

تین ججوں کے اس پینل کے مطابق اس مقدمے کے نمایاں اور تلخ حقائق دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تعزیراتی ہرجانے کا فیصلہ تجاوز پر مبنی نہیں ہے۔

دوسری جانب اپیل کے مسترد ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کے وکیلوں نے فوری طور پر تبصرہ کے لیے کی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ اگرچہ امید تھی کہ ٹرمپ کے وکیل سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فوری اعلان کر دیں گے۔

جبکہ کیرول کی وکیل روبرٹا کیلن نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے آج کیرول کا موقف ایک بار پھر سچ ثابت ہو گیا ہے۔

میری مؤکلہ کو قانونی عمل کے دوران دھمکیاں ملی تھیں اور کیرول کو ٹرمپ کے خلاف بات کرنے کے بعد جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ نیز وہ ایلے میگزین میں اپنا دہائیوں پرانا کیریئر بھی کھو بیٹھی تھیں۔ نہ ہی اب انہیں ٹی وی ٹاک شوز میں بلایا جاتا ہے۔

کیرول نے اس سلسلے میں پچھلی دہائیوں میں ایسے کئی واقعات کو ٹرمپ پر ہراسگی کے حملوں کے الزام کے حوالے سے پیش کیا تھا۔ لیکن ٹرمپ کا خیال تھا کہ ان کے وکیل انہیں اس ٹیرف کی طرح 'غیر معقول' طور بڑھے ہوئے ہرجانے سے بچا لیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں