سعودی عرب کے تین آئل ٹینکرز نے آبنائے ہرمز عبور کر لیا، 60 لاکھ بیرل تیل منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جہازوں کی ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کے روز سعودی پرچم بردار تین بڑے تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو مجموعی طور پر 60 لاکھ بیرل خام تیل لے جا رہے تھے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی۔

رائٹرز کے تجزیے کے مطابق یہ سعودی بندرگاہوں سے گزرنے والی حالیہ ہفتوں کی سب سے بڑی آئل کھیپوں میں سے ایک ہے۔اسی دوران مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سے بھرا ایک ٹینکر اور پیٹرولیم مصنوعات لے جانے والے کچھ خالی جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ عالمی توانائی منڈیوں کے تاجر اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا مفاہمتی معاہدہ جنگ کے خاتمے کے لیے نافذ العمل ہو چکا ہے۔

بلومبرگ نیوز ایجنسی کے مطابق جہاز ''مرايخ'' جو اس ماہ کے آغاز میں قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی کھیپ لے کر روانہ ہوا تھا اور ایک خالی جہاز ''یی شی'' بھی آج صبح سویرے آبنائے ہرمز سے گزرے۔ دونوں جہازوں نے ایران کی جانب سے مقرر کردہ محفوظ سمندری راستے کا استعمال کیا۔

دوسری جانب بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے گزشتہ روز خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھل جاتی ہے، تو رواں سال کی رسد کی کمی آئندہ برسوں میں بڑے فاضل رسد (سرپلس) میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

ایجنسی نے اپنی ماہانہ مارکیٹ رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ 2027 تک عالمی تیل و توانائی کی سپلائی میں نمایاں اضافہ ہو گا، جبکہ اگلے سال روزانہ طلب کے مقابلے میں رسد 5اعشاریہ05 ملین بیرل زیادہ ہو سکتی ہے، جس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی دوبارہ عالمی منڈی میں واپسی بتائی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں