لندن میں منگل کو ہتھیاروں کا ایک بڑا میلہ اسرائیلی حکومت کے اہلکاروں کی موجودگی کے بغیر شروع ہو رہا ہے جس کی وجہ غزہ تنازعے پر برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان بگڑتے ہوئے سفارتی تعلقات ہیں۔
برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کی انتظامیہ نے چار روزہ تقریب سے اسرائیلی عہدیداروں کو خارج کر دیا لیکن 51 اسرائیلی دفاعی کمپنیاں بشمول بڑی ہتھیار ساز کمپنی ایلبٹ سمیت نمائش میں شرکت کر رہی ہیں۔
سرکاری ملکیتی رافیل اور اسرائیل ایروسپیس انڈسٹریز کی بھی نمائشیں ہوں گی جس سے اسرائیل برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا اور جرمنی کے بعد پانچواں بڑا قومی دستہ بن جائے گا۔
توقع ہے کہ سو سے زیادہ بنیادی سطح کی تنظیموں اور کارکن گروپوں کا اتحاد جس میں فلسطینیوں کے حامی اور اسلحہ مخالف مظاہرین شامل ہیں، برطانوی دارالحکومت میں نمائشی مرکز ایکسل لندن میں بڑی تعداد میں آئے گا جو ہر دو سال بعد منعقدہ ڈی ایس ای آئی یو کے تجارتی میلے کی میزبانی کر رہا ہے۔
اسلحے کی تجارت کے خلاف مہم کی ترجمان ایملی ایپل نے ایک بیان میں کہا، نمائش کرنے والی اسرائیلی کمپنیوں کی "انسانیت کے خلاف جرائم پر تحقیقات ہونی چاہئیں، نہ کہ انہیں غزہ میں ہونے والی ناقابلِ بیان تباہی سے فائدہ اٹھانے کے لیے مدعو کیا جائے۔"
اسرائیل کے "غزہ میں فوجی کارروائی کو مزید وسعت دینے کے فیصلے" کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی وزارتِ دفاع نے اگست کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کے کسی سرکاری وفد کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔
اسرائیل نے ڈیفنس اینڈ سکیورٹی ایکوپمنٹ انٹرنیشنل (ڈی ایس ای آئی) میلے سے اپنے عہدیداروں کے اخراج کو "امتیازی سلوک" قرار دیا تھا۔
اسرائیلی صدر کا دورہ
اس کے ساتھ ہی اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ منگل کو تین روزہ سرکاری دورے پر لندن آ رہے ہیں جس کا مقصد "یہودی برادری سے اظہارِ یکجہتی کرنا ہے جو شدید حملوں کی زد میں ہے اور یہود دشمنی کی لہر کا سامنا کر رہی ہے"، یہ بات ان کے دفتر نے پیر کو بتائی۔
ڈی ایس ای آئی یو کے کی ویب سائٹ کے مطابق ہتھیاروں کے میلے میں "برطانیہ کے صفِ اول کی تمام کمان کے ہمراہ بین الاقوامی حکومتوں اور ممالک کی وزارتِ دفاع تک رسائی شامل ہے"۔
اس تقریب میں نمائش کنندگان اور مہمانوں کی ریکارڈ تعداد کی توقع ہے کیونکہ عالمی تنازعات بشمول روس-یوکرین جنگ نے یورپی اور دیگر حکومتوں کو فوجی اخراجات میں اضافہ کرنے پر آمادہ کیا ہے۔
فرانس جو اس شو میں بھی شامل ہے، نے جون میں پیرس ایئر شو میں کئی اسرائیلی اسلحہ سازوں کے سٹینڈز تک رسائی روک دی تھی کیونکہ اس نے اسے "جارحانہ ہتھیار" قرار دیا تھا۔
لیبر پارٹی کے سٹارمر نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی پر رضامندی سمیت دیگر اقدامات نہ کیے تو برطانیہ اس ماہ کے آخر میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لے گا۔
لندن نے اسرائیل سے تجارتی مذاکرات نیز غزہ میں استعمال ہونے والے اسلحے کے بعض برآمدی لائسنس معطل کر دیئے ہیں لیکن برطانیہ کے تیار کردہ بعض پرزہ جات مثلاً اسرائیلی ایف-35 جیٹ طیاروں کے اجزاء بدستور برآمد کیے جاتے ہیں۔