فرانس میں گرینڈ احتجاج کے پہلے مرحلوں میں تقریباً 200 افراد دھر لیے گئے

پچھلی حکومت کے متعارف کردہ کفایتی بجٹ کے بعد ’سب کچھ بند کرو‘ تحریک کا نعرہ عام ہونے کے بعد یہ احتجاج گذشتہ پیر کو حکومت کے گرنے سے پہلے شروع ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانسیسی وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ ملک گیر احتجاج کے ابتدائی مرحلوں میں تقریباً 200 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

اگرچہ احتجاجی تحریک اپنے نعرے ’سب کچھ بند کرو‘ کے نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی، یہ تحریک آن لائن شروع ہوئی اور موسم گرما کے دوران اس نے زور پکڑ ا، جس کی وجہ سے وسیع پیمانے پر ہنگامے پیدا ہوئے۔ اس نے 80 ہزار پولیس اہلکاروں کی غیر معمولی تعیناتی کو بھی چیلنج کیا، جنہوں نے رکاوٹیں دور کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔

وزیرِ داخلہ برونو ریتیلو نے بتایا: کہ مغربی شہر رین میں ایک بس میں آگ لگائی گئی، اور بجلی لائنوں کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے جنوب مغرب کی ایک ریل لائن پر ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی ہے۔

پیرس میں بدھ کی صبح ہوتے ہی مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں، جہاں مظاہرین نے کچرے کے ڈبوں میں آگ لگا دی۔

فرانسیسی صدر عمانوئیل میکرون کی کفایتی پالیسیوں سے نالاں مظاہرین پورے ملک میں سرگرمیوں کو بند کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

حکام نے بتایا :کہ وہ ملک گیر مظاہروں کے دوران سڑکیں بند کرنے اور تباہ کاری کے اقدامات کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، تاہم ابھی تک احتجاجات کے دائرے اور شدت کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

پچھلی حکومت کی طرف سے کفایتی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ’سب کچھ بند کرو‘ کے نعرے نے زور پکڑا، تاہم مظاہرے شروع ہونے کے بعد پیر کے دن وزیراعظم فرانسوا بایرو اعتماد کے ووٹ میں شکست کے بعد اپنی وزارت سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

فرانسیسی ریلوے کمپنی نے علاقائی ٹرانسپورٹ سروسز میں خلل کی اطلاع دی، جبکہ فرانسیسی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے خبردار کیا کہ فرانس کے ہوائی اڈوں پر آپریشنز رکنے کا امکان ہے۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق، کمپنیوں اور یونیورسٹیوں میں بھی احتجاجات متوقع ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size