قطر میں شہریوں کو نہیں بلکہ حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا : اسرائیل

عالمی سلامتی کونسل نے دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی حملے کی مذمت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینون نے دعویٰ کیا ہے کہ دوحہ میں کیے گئے اسرائیلی حملے کا ہدف حماس کے رہنما تھے، نہ کہ قطر کے عام شہری۔

ڈینون نے جمعرات کو اپنے بیان میں قطر پر الزام لگایا کہ وہ "دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ" فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کی "دہشت گرد قیادت" جہاں بھی موجود ہو گی، اسرائیل اس کے خلاف کارروائی کرے گا۔

ڈینون کے مطابق "دہشت گردوں کے لیے کوئی استثنا نہیں" اور دوحہ میں موجود حماس رہنما ’"دہشت گردی کے منصوبہ ساز" تھے۔ ان کے مطابق قطر کو چاہیے کہ وہ حماس کے اقدامات کی مذمت کرے اور ان عناصر کو ملک سے نکالے۔ ڈینون نے مزید کہا کہ اسرائیل "سرنگوں سے لے کر ہوٹلوں تک دہشت گردی کا تعاقب کرے گا"۔

اسرائیلی مندوب نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ جنگ کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں اور غزہ کے عوام کی حالتِ زار کی پروا نہیں کرتی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ "غزہ میں یرغمالیوں کے خاندان روزانہ حماس کی بربریت کا شکار ہیں"۔

ڈینون نے مزید کہا کہ اسرائیل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کو قبول کر لیا ہے جس کا مقصد غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہے، لیکن حماس نے اسے مسترد کر دیا۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے منگل کو دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کے اجلاس کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں خلیل الحیہ کا بیٹا، ان کے چار ساتھی اور ایک قطری سکیورٹی اہل کار شامل تھے۔ تاہم خلیل الحیہ اور خالد مشعل اس حملے سے محفوظ رہے۔

دوسری جانب قطر نے جمعرات کو عالمی اور علاقائی سطح پر اسرائیلی جارحیت کی فوری مذمت کرنے والے ممالک اور تنظیموں کا شکریہ ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں